ِ رائٹر اکاؤنٹ بنائیے
  ِاپنی تحریر پوسٹ کیجئے
  مفت ناول ڈاؤن لوڈ کیجئے
ِ آن لائن شاپ / کتاب آرڈر کیجئے  
       
       
  قسط وار ناول پڑھئے
  بچوں کی کہانیاں پڑھئے
  بلاگ بنانا سیکھئے
ِدیگر اہم اصناف  
       

قارئین کی پسندیدہ کیٹگریز

              

وہ جو نہیں ملا (افسانہ)

وہ جو ملا نہیں…
عرفان علی عزیز
منڈی یزمان

 

ماہ جبیں اپنی دونوں لمبی لمبی چوٹیاں گوندھ چکی اورآنکھوں میں کاجل لگانےلگی تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔وہ تیزی سے دروازہ کھولنے کے لیے بڑھی تو قالین کے کونے سے پاؤں الجھ گیا۔گرتے گرتے بڑی مشکل سے سنبھل گئی۔اس نے دیکھا کہ فیروز کھڑاہے۔
   ”ارے تم کتنے عجیب عجیب سے لگ رہے ہو۔“اس کےمنہ سےبےساختہ نکلا۔فیروز نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”اب اندر آنے کو کہوگی یا میں یوں ہی کھڑا رہوں.“
ماہ جبیں نےاسےاندرصوفےپربٹھایااوراس کی تواضع کےلیےمشروب لینےچلی گئی۔
فیروز اس گھر میں تقریباًدوسال سےآجارہاتھا۔اس کے والدین فوت ہو چکے تھے اور بھائی بہن کوئی نہ تھا۔اس نے اپنا بوجھ خود اٹھایا ہوا تھا۔ملازمت کے سلسلے میں وہ کئی شہروں میں کام کر چکا تھا مگر پچھلے دو برس سے اسی شہر میں تھا۔یوں بھی بینک کی ملازمت ایسی ہوتی ہے کہ انسان کو نچوڑ کر رکھ دیتی ہے۔اسےتو دور کے کیا،قریبی رشتےداروں کی بھی خبرنہیں ہوتی۔
      جب فیروز نےاس عمارت میں نیا نیا فلیٹ کرایے پر لیا تھا،تو ایک بار لفٹ خراب ہوگئی۔وہ اور ماہ جبیں اس حالت میں ملے کہ ماہ جبیں کے ہاتھ میں خریداری کے بڑے بڑے تھیلے تھے اور وہ دفتر سے تھکاہارا بریف کیس اٹھائے چلا آ رہا تھا۔دو تین اور افراد بھی لفٹ میں موجود تھے۔یوں تولفٹ ٹھیک ہونے میں ذرا سی دیر لگی مگر فیروز نےکئی بار نظر اٹھا کر ماہ جبیں کودیکھا۔وہ سانولی سلونی اور تیکھےنقوش والی چھریرے بدن کی لڑکی تھی۔جب اس نے ایک تھیلا پل بھرکو لفٹ کی زمین پر رکھ دیا اور سستانے لگی توفیروز نے آگے بڑھ کر اسے اٹھا لیا اورکہا
      ”میں لےجاتاہوں، آپ شاید بہت تھک گئی ہیں۔“ماہ جبیں اپنے بال پیشانی سےہٹاکرمسکرانے لگی۔مسکراہٹ فیروزکے دل میں ٹھہرگئی۔اسے لگا کہ کسی باغ میں ایسی کلی بھلا کب کھلی ہوگی جیسے وہ مسکرائی تھی۔
   ماہ جبیں نے کہا۔”اچھا ٹھیک ہے آپ لےچلیے ہمارا فلیٹ پانچویں منزل پر ہے۔“
    یہ ان دونوں کی مختصر سی ملاقات تھی جو بڑی مصروف اور ذمہ داریوں سے اٹی ہوئی زندگی میں ہوئی تھی۔جب فیروز تھیلا اندر رکھنے آیا تو جاتےجاتے اسے ماہ جبیں نے بتایا کہ اس کے ابو بیمار ہیں اور لیٹے ہوئے ہیں۔فیروزان کے پاس گیا اور خیریت پوچھ کر جانے لگا۔اسے ماہ جبیں ہی سے معلوم ہوا کہ وہ سال بھر سے مسلسل بیمار ہیں اور اس کی بہن آپاحسینہ ابو کے سب کام کرنے کے علاوہ ملازمت بھی کرتی ہیں۔فیروز جاتے جاتےماہ جبیں سے کہہ گیا
    ”میں بھی اسی عمارت میں رہتا ہوں ۔ کبھی کوئی کام ہو تو ضرور بتائیے گا۔“
     ماہ جبیں کالج میں سیکنڈ ائیر کی طالبہ تھی۔اسے دنیا کی کسی بدی کی خبر نہ تھی ۔ اس کی معصوم آنکھیں خوابوں سے بھی تھیں اور ساری فضا نغموں سے معمور تھی۔ جب سے ماہ جبیں کی والدہ کا انتقال ہوا تھا، اس کا دل کسی تقریب میں جانے کو نہ چاہتا تھا۔اس کے دو بڑے بھائی یورپ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مقیم تھے۔ پہلے تو وہ سال کے سال آتے رہے مگر اب تین برس سے یہ معمول بھی نہ رہا تھا۔البتہ وہ دونوں خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے ٹیلی فون کر لیا کرتے تھے۔بڑے بھائی کی بیوی مسلمان تھیں لہذا عید بقر عید کی عیدی بھیج دیا کرتیں مگر دوسرے بھائی کی بیوی عیسائی ہونے کے ناتے کوئی راہ و رسم نہ رکھتی تھیں۔دونوں بھائی اپنی شادی کے دو سال بعد تک تو اپنے ابو کو تھوڑی بہت رقم بھیجتے رہے کیونکہ ان کی پنشن سے روز مرہ کا خرچ چلنا مشکل تھا۔ماہ جبیں کی تعلیم بھی جاری تھی۔جب حسینہ نے ایم ایس سی کر کے ایک دوا ساز ادارے میں ملازمت کر لی تو انھوں نے رقم بھیجوانے سے ہاتھ روک لیا۔ماہ جبیں کی عمر لگ بھگ انیس سال تھی اور سر میں ایک آدھ چاندی کی لکیر جھلک اٹھی تھی۔وہ یوں تو معمولی شکل صورت تھی تھی مگر اس کا ہر انداز اور طریقہ زندگی سے بھر پور تھا۔وہ بڑی سنجیدہ خاتون تھی۔تاہم اس کے دوست احباب بھی تھے اور وہ گھر کی تمام دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ وقت نکال کر گھومتی پھرتی بھی تھی۔ماہ جبیں ویسے تو خوش مزاج تھی مگر اپنے ابو کی بیماری اور تکلیف سے جلد گھبرا جاتی۔اس کے بھولپن کی انتہا تھی۔دو ایک بار اس کے ابو نے سمجھایا کہ فلاں دکان سے سامان نہ لیاکرو۔وہاں اچھے لوگ نہیں ہوتے۔ماہ جبیں اپنے ابو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی۔
   ”کیا وہ مجھے کھا جائیں گے؟چھوڑیے ابو!آپ یوں ہی سوچتے رہتے ہیں.“
    ماہ جبیں کو کناری لگے،ابرق سے بھرئے،شوخ رنگ کےچُنے ہوئے دُوپٹے اچھے لگتے تھے۔وہ روز اپنے بالوں میں ہلکا ہلکا تیل لگا کر چوٹیاں گوندھا کرتی۔جاڑوں میں سر پر اجرک اوڑھتی تھی۔اسے قرمزی رنگ کے خوبصورت جوتوں کا بڑا شوق تھا۔ماہ جبیں کو ہر بات بھول جانے کی عادت تھی۔وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتی تھی۔جلد ہنس دیتی اور جلدی ہی رودیتی۔وقار چودہ اگست کی چھٹی کے روز ایک بار آیا اورفیروز کے ابو کے لیے تحریک آزادی کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب لایا۔وہ کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔یہی اچھا موقع تھا فیروز ماہ جبیں سے باتیں کرنے لگا۔وہ نت نئے قصے سناتا رہا۔ماہ جبیں سنتی رہی اور مسکراتی رہی۔فیروز کو محسوس ہوا یہ مسکراہٹ اس کے رگ و پے میں اترتی چلی جارہی ہے۔چائے کے بعد اس نے اجازت لی اور چلا گیا۔ماہ جبیں نے اپنی سادہ ہی زندگی میں نہ کبھی خاندان کے لڑکوں کو دیکھا تھا نہ کبھی کالج سے باہر کسی سے ملتی تھی۔اس کی چھوٹی سی زندگی شبنم کی طرح شفاف تھی۔اسے عشقیہ کہانیاں پسند تھیں مگر صرف پڑھنے کی حد تک ! وہ خاص حسین بھی نہ تھی کہ اس کی سہیلیاں اسے احساس دلاتیں کہ تم ہیروئن ہو۔اس کی زندگی میں فیروز جو بتیس تینتیس سال کا تھا کب اور کیسے داخل ہوا اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
فیروز ماہ جبیں کی بات بات پر تعریف کرتا اور اگر وہ بھی مسکرا دیتی تو اور بھی جی جان سے توجہ دیتا۔اس طریقے سے تو کبھی کسی نے اس پر توجہ نہ دی تھی۔ماہ جبیں سوچتی۔
     ”ہائے اللہ ہم بھی کسی کو اتنے اچھے لگ سکتے ہیں۔“
   فیروز رفتہ رفتہ ماہ جبیں کو بہت اچھا لگنے لگا۔ گھر پر ابو کی مسلسل بیماری دوائیاں، نرس، میڈیکل رپورٹیں،حسینہ کی گفتگو جاری رہی۔وہ کالج جاتی بے پناہ مصروفیت اور سنجیدہ کو دوست کو فون کر لیتی۔رات گئے نوٹس لکھتی اور کبھی کبھی کسی تک ٹی وی دیکھتی۔ایسی بے کیف فضا میں ماہ جبیں کےلیے فیروز کا وجود تازہ ہوا کا جھونکا تھا۔وہ فیروز کو چاہنے گی۔اب اسےروزانہ اس کی آمد کا انتظار رہتا۔فیروز حیدر آباد سے تبدیل ہو کر آیا تھا۔ اس نے زندگی میں پہلے دو چار بار معاشقے تو کیے تھے مگر واجبی سے۔کبھی آپس میں بحث اور لڑائی ہوئی اور راستے الگ الگ ہو گئے،کبھی لڑکی کی کہیں اور شادی ہوگئی۔فیروز کبھی اتنا سنجیدہ نہ ہوا تھا کہ کسی لڑکی کو جیون ساتھی بنانے کے بارے میں سوچتا۔شاید ساتھی کے بارے میں اس کا ایک مخصوص تصور تھا۔اب اسےماہ جبیں میں کشش محسوس ہوئی لہذا وہ اس کی طرف خود بخود بڑھتا چلا گیا۔
  ماہ جبیں کی بعض عادتیں عام لڑکیوں کی نسبت بہت بچگانہ تھیں حالانکہ وہ بچپن کی دیوار پھلانگ چکی تھی۔اسے اب بھی پتنگ اڑانا،کرکٹ کھیلنا،چھوٹے بچوں کو چھیڑنا اور گد گدانا اچھا لگتا تھا۔کبھی کبھی برسات میں صحن میں جا بیٹھتی،خوب بھیگتی اور کاغذ کی ناؤ بنا کر پانی میں چھوڑتی۔دن تھے کہ پنکھ لگا کر اڑے چلے جا رہے تھے اور راتیں چاند کا ہاتھ تھامے جھوما کرتی تھیں۔جس دن نسیمہ احمد سے مل لیتی اسے یوں لگتا جیسے ہر طرف ارمانوں کے پھول کھل اٹھے ہیں۔ دھیرے دھیرے فیروز کے گھر فیروز کی آمد ورفت میں اضافہ ہو گیا۔وقاراکثر ماہ جبیں کے ابو کے ساتھ کافی پیتا اور ٹی وی پر میچ دیکھتا۔اس گھر میں اعتماد کی فضا موجود تھی۔کچھ عرصے بعد ماہ جبیں فیروز کے ساتھ خریداری کرنے بھی جانے لگی اور ایک آدھ بار فلم بھی دیکھ آئی۔
فیروز کی تنہائیاں کم سے کم ہوتی جا رہی تھیں۔وہ آہستہ آہستہ ماہ جبیں کو اپنی زندگی اور خاندان کے حالات بتانے لگا۔وہ ایک دو بار ماضی کے دکھ بھرے واقعات سنا کر رویا بھی۔اس کے ایک دوست کو مشکل وقت میں پیسوں کی ضرورت ہوئی تو اس نےماہ جبیں سے قرض بھی لے لیا۔فیروز نے جلد ہی قرض اتار دیا حالانکہ ماہ جبیں نے قطعی تقاضا نہ کیاتھا۔فیروز نے اپنے مالی حالات بھی صاف صاف لفظوں میں اسے بتادیے۔فیروز نے کچھ ایسی باتیں بھی کہیں جوماہ جبیں کے لیے نئی تھیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے پہچانتے چلے جارہے تھے۔فیروز ایک دفعہ عید کے دن دونوں بہنوں کے لیے سوٹ لایا ابو کے لیے نائی اور نوکروں کے لیے مٹھائی۔وہ ماہ جبیں کی پسند کی چاکلیٹ اکثرلاتا رہتا تھا۔ماہ جبیں بھی بھی اپنے آپ سے کہتی۔فیروز کتنے پیارے ہیں جیسے میری سہیلی ہوں۔ماہ جبیں اورفیروز گھنٹوں فون پر باتیں کرتے کرکٹ میچ کی،کتابوں، فلموں اور کالج کے دوستوں کی اور خدا جانے کیا کیا۔ ان ملاقاتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماہ جبیں من ہی من میں چپکے سےفیروز کو اپنا جیون ساتھی بنا بیٹھی۔ایک بار فیروز خلاف معمول صبح کے وقت ماہ جبیں کے گھر آیا۔وہ کالج جارہی تھی۔ماہ جبیں نے فیروز کو کھانے کی میز پر بٹھا دیا۔اسے ابھی ناشتہ کرنا تھا۔ماہ جبیں نے پہلی بار فیروز کو میلی ہوئی شلوار قمیض میں دیکھا تھا۔وہ تھکا ہوا اور چپ چپ تھا جیسے رات بھر سویا نہ ہو۔وہ کہنے لگا۔
     ”سنو ماہ جبیں تم جلدی میں ہومگر میں بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ایک خاص بات کروں۔اچھا دیکھو تم ہنسنا نہیں۔“
    وہ ابھی اتنا ہی کہ پایا تھا کہ ماہ جبیں کی سہیلی نے دروازے کی گھنٹی بجائی۔وہ کالج جانے کے لیے اٹھی اور خدا حافظ کہتی ہوئی چلی گئی۔ایک شام ایسی آئی کہ بہت سے جگنو چمکے اور پہلے کی کلیاں کھل اٹھیں۔ماہ جبیں نہا دھو کر گلابی جوڑا پہن کر تیار ہوئی۔اور آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ تھوڑی دیر آئینے کے سامنے کھڑی رہی اور جانے کس خیال سے مسکرانے لگی۔اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو فیروز کھڑا تھا۔ماہ جبیں گھبرا کر پیچھے جو ہٹی تو چراغ دان سے ٹکرا گئی اور جلدی سے اپنا دوپٹہ درست کیا۔فیروز اداس سا لگ رہا تھا۔دونوں برآمدے میں بیٹھ گئے۔ماہ جبیں کے ابو طبی معاینے کے لیے ہسپتال گئے تھے اور حسینہ کے دفتر سے آنے میں گھنٹہ بھر باقی تھا۔
  ”میں یہ بات کیسے کہوں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔”فیروز کہہ کر خاموش ہوگیا
ماہ جبیں اصرار کرنے لگی
     ”بتائیے نا کیا بات ہےآپ پریشان سے لگ رہے ہیں ۔“اس کا لہجہ جذباتی تھا۔
    ”دیکھو ماہ جبیں میرا دنیا میں کوئی نہیں، عزیز نہ رشتے دار کوئی دوست بھی نہیں، بس تم ہی ایک دوست ہو ۔“
   ماہ جبیں کو اس کا یہ کہنا اچھا لگا اور وہ آنکھیں جھکا کر ہلکے سے مسکرادی۔ اس کا بڑا جی چاہا کہ وہ بھی کہہ دے کہ تم دوستی کی بات کرتے ہو میں تو ساری عمر تمہارے سنگ سنگ رہنا چاہتی ہوں۔
   ماہ جبیں نے قریب ہوتے ہوئے فیروز سے کہا
    ”ضرور بتائیے بات کیا ہے۔“
    فیروز ہکلانے لگا۔ اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔ماہ جبیں کا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا اور چہرہ ان جانی خوشیوں سے سرخ ہو گیا۔
     ” فیروز ! کچھ کہیے نا میں سن رہی ہوں۔“
   فیروز نے رومال سے پسینا صاف کیا اور اس کی طرف دیکھے بغیر کہنے لگا ”ماہ جبیں آج جو بات میں تم سے کہنے والا ہوں وہ میں نے کبھی کسی سے نہیں کی۔تم میری بڑی پیاری اور بڑی مخلص دوست ہو نا۔“
   ماہ جبیں نے بے اختیار اس کے ہاتھ تھام لیے اور وہ یہ کہتے کہتے رک گئی
    ”ارے بولونا میں خود یہی چاہتی ہوں سمجھ گئے نا۔“
فیروز کہنے لگا ”کیسے بتاؤں کہ میں اب شادی کرنا چاہتا ہوں۔“
وہ شرما گئی اور ایک ہاتھ میں پہنی چوڑی دوسرے ہاتھ سے گھمانے لگی۔فیروز نے بات جاری رکھی”ماہ جبیں! میرا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی بڑا جو یہ بات کرتا۔تم نے توایک دن مذاق مذاق میں خود مجھے اپنی عزیز ترین سہیلی کہا تھا سچ ہے نا“
    یہ کہہ کر فیروز اُس کے بالکل قریب آ کر بیٹھ گیا۔ماہ جبیں کے سینے میں ہلچل مچ گئی۔اس کے وجود کے اندر محبت کا جھرنا بہنے لگا جس کی شدت کا احساس اسے پہلے بھی نہ ہوا تھا۔
فیروز نے بڑی جذباتی اور دھیمی آواز میں کہا ” تم ہی میری دوست ہو۔تم سے نہ کہوں تو کس سے کہوں۔ بڑے مان سے کہہ رہا ہوں۔ماہ جبیں دیکھو شادی تو زندگی بھر کا فیصلہ اور جنم جنم کا ساتھ ہے۔۔یہ ضروری ہے کہ جیون ساتھی اپنے برابر کا اپنے جیسا سمجھدار اور سنجیدہ ہو۔پیار ومحبت اپنی جگہ مگر ساتھ ساتھ وہ سب ذمہ داریوں کو بھی نبھا سکے ۔“
    فیروز نیچے دیکھتے ہوئے بولا..”تم آج ہی حسینہ سے میرے لیے بات کر لو۔ماہ جبیں میری مدد کرنا اور اسے قائل کر لینا۔مجھے یقین ہے تم منع نہیں کرو گی.مجھ سے وعدہ کرو کہ تم میری لاج رکھو گی اور حسینہ کو شادی کے لیے راضی کر لو گی۔“
    ماہ جبیں نے اچک کر اپنا ہاتھ فیروز کے ہاتھوں سے کھینچ لیا۔اس بدن اسکے ساتھ نہیں رہا وہ گرتے گرتے بچی۔اس کے حواس بے قابو ہوگئے۔دل ودماغ میں گہری چوٹ لگی تھی۔وہ اسے اپنا ساتھی چنے بیٹھی تھی۔مگر وہ کسی اور پر فدا ہوگیا تھا۔جس کاغذ کی ناؤ کو اپنے لیے مخصوص کرنا چاہتی تھی۔وہ پانی کے جھل سے بہہ کر ڈوب گئی۔اس کے بنائے ہوئےخواب چکنا چور ہو کر بکھرگئے۔وہ زمین پر گرگئی۔اور فیروز اسے سنبھالنے کے لیے آگے بڑھا مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔اور ماہ جبیں کی زندگی کی شام ہوگئی۔
وہ جو ملا نہیں تھا،قریب تھا
وہ بچھڑ گیا کہ میرا نصیب تھا
قرب کی آرزو تھی دل میں اٹھی
روشنی تھی، نہ کوئی عندلیب تھا

ختم شد 



اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولز Nimra Ahmed Novels  عمیرہ احمد کے ناولز Umera Ahmed Novels  اشتیاق احمد کے ناولز Ishtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریز Imran Series دیوتا سیریز Devta Series انسپکٹر جمشید سیریز Inspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولز شہزاد بشیر کے ناولز Shahzad Bashir Novels نسیم حجازی کے ناولز Naseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟  We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff !   Donate | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon

irfanaziz2404

عرفان عزیز کا تعلق زمان منڈی ضلع بہاولپور سے ہے۔ افسانہ نگاری ناول نگاری ، جاسوسی ناول اور شاعری کرتے ہیں۔ مختلف شماروں میں تحریریں لکھیں ہیں اور جاسوسی ناول شائع ہوتے ہیں شاعری پر مشتمل کتاب اشاعت کے لیے موجود ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave the field below empty!

Next Post

28 Must Read Urdu Spy Detective Novels By Shahzad Bashir

Tue Jul 9 , 2024
28 Must Read Urdu Spy Detective Novels By Shahzad Bashir Shahzad Bashir, a contemporary Pakistani author, is renowned for his thrilling spy detective novels. With a deep appreciation for the legacy of Urdu detective fiction, Shahzad has captivated readers with his intricate plots, well-developed characters, and engaging narratives. His novels […]
28 shahzad bashir novels

ایسی مزید دلچسپ تحریریں پڑھئے

Chief Editor

Shahzad Bashir

Shahzad Bashir is a Pakistani Entrepreneur / Author / Blogger / Publisher since 2011.