روئی کی گڑیا
ازقلم : ایمن ریاض
اب اگر تم نے کوئی بکواس کی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اماں جان کی سماعتوں میں نائل کے الفاظ پڑے۔
ہاں ہاں تم اور تمہارے گھر والے چاہتے ہی یہ ہیں ۔ اصل فساد کی جڑ ہی تمہاری اماں جان ہیں عمارہ کی چیختی ہوئی آواز آئی۔۔
تمہیں تو میں۔۔۔ نائل کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ اماں جان نے اس کا اٹھا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔
نہ نائل بچے یہ کیا کر رہے ہو ، بیوی پر ہاتھ اٹھاتے شرم نہیں آتی ۔ یہ تربیت کی ہے میں نے تمہاری کہ تم عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے پھرو۔ اماں جان نے نائل کو لتاڑتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی عمارہ سے مخاطب ہوئیں ،
دیکھو بہو ! شوہر کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا کرو۔ مرد کو چیختی ہوئی عورت پسند نہیں آتی۔
آپ تو چپ ہی رہیں جانتی ہوں آپ کو میں اچھی طرح سے۔ پہلے بیٹے کو خوب بھڑکاتی ہیں پھر میرے سامنے معصوم بننے کا ناٹک کرتی ہیں۔ عمارہ نے اماں جان کی بات کاٹتے ہوئے بدتمیزی سے کہا۔
دیکھا دیکھا آپ نے اماں جان یہ رویہ ہے اس عورت کا۔ اور آپ مجھے سمجھاتی ہیں ۔نائل نے شکوہ کناں نظروں سے بی جان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
بس بی جان نے ہاتھ اٹھا کر بات روکنے کا اشارہ کیا ۔
آپ میرے پیچھے آئیں ۔نائل مجھے آپ سے ضروری بات کرنا ہے۔ بی جان نائل کو حکم صادر کرتیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
ہونہہ بھڑکانا ہو گا بڑھیا نے نائل کو۔ عمارہ نے نخوت سے کہا ۔
_________________________
آج میں آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں جو ہماری اماں جان اکثر ہم بہن بھائیوں کو سناتی تھیں، بیٹھیں اور تحمل سے کہانی کے ختم ہونے کا انتظار کریں۔ بی جان نے نائل کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر کہا۔ نائل آنکھوں میں ناسمجھی کا تاثر لئیے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا تو بی جان نے کہانی سنانی شروع کی۔
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی اور بادشاہ کو عزیز از جان تھی ۔ شہزادی کو بچپن سے ہی گڑیا جمع کرنے کا شوق تھا وقت کے ساتھ ساتھ شہزادی کی طرح اس کا شوق بھی اس کے ساتھ پروان چڑھتا رہا اور شہزادی نے خوب صورت سے خوب صورت اور مہنگی ترین گڑیا جمع کر لیں۔ شہزادی ویسے تو بہت سلجھی ہوئی طبیعت کی اور نہایت سلیقہ مند تھی اور اس کی طبیعت میں عاجزانہ تاثر پایا جاتا تھا۔
البتہ شہزادی کی ایک بری خصلت یہ تھی کہ وہ گڑیا جو وہ بہت پیار و محبت اور ذوق و شوق سے جمع کرتی تھی تھوڑے عرصے کے بعد اسے ان میں سے نقص نظر آنے شروع ہو جاتے اور تھوڑے عرصے کے بعد وہ گڑیا جو اسے ازحد پسند ہوتی تھی اس لاوارث بچے کی طرح جسے لوگ کچرے کے ڈھیر سے کم نہیں سمجھتے، بالکل اسی کی طرح وہ گڑیا بھی ایک کونے میں پڑی نظر آتی۔
بادشاہ اس کی اس عادت سے عاجز آ چکا تھا کیونکہ وہ رویہ جو شہزادی اپنی گڑیوں کے ساتھ رکھتی تھی وہی رویہ اب انسانوں پر بھی حاوی ہونے لگا تھا۔اور شہزادی کی شدت پسندی دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی۔
وقت گزرتا رہا ایسے ہی ایک دن شہزادی نے ایک بچے کے ہاتھ میں ایک گڑیا دیکھی جو کہ روئی سے بنی ہوئی تھی۔
شہزادی نے بچے سے گڑیا طلب کی لیکن بچے کے مسلسل انکار سے شہزادی نے طیش میں آ کر بچے سے گڑیا چھین لی۔
اور اسے ریزہ ریزہ کے کے فضا میں بکھیر دیا۔ بچہ اپنی فریاد لے کر بادشاہ کے دربار پہنچا تو بادشاہ نے اسے کچھ قیمت اور چند تحائف دے کر شہزادی کی حرکت کا ازالہ کرنا چاہا تو بچے نے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ کے یہ بیش قیمت تحائف میری اس قیمتی گڑیا کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ درباری بچے کا انکار سن کر غصے میں آ گئے اور کہا کہ تم اپنے چند روپوں کی گڑیا کو بادشاہ کے تحائف سے قیمتی قرار دے رہے ہو تمہیں پتہ بھی ہے کہ یہ تحائف لاکھوں کے ہیں اور تمہاری روئی کی گڑیا سے کہیں قیمتی ہیں۔ بچے نے درباریوں کی بات سن کر کہا کہ بلاشبہ یہ تحائف بہت قیمتی ہیں۔ لیکن میری گڑیا سے قیمتی نہیں ہیں۔۔میری گڑیا کی قیمت یہ چند سکے اور چار، چھ تحائف کبھی نہیں ہو سکتے۔
بچے کی مسلسل گڑیا کی تکرار سے تنگ آ کر بادشاہ نے بچے سے پوچھا کہ تمہاری گڑیا تمہارے نزدیک اتنی قیمتی کیوں ہیں کہ تم میری بیٹی کی شکایت لے کر دربار پہنچ گئے؟ کیا یہ گڑیا تمہارے لیے اس قدر قیمتی ہے کہ تمہیں اس بات سے خوف محسوس نہیں ہؤا کہ میں تمہاری حرکت کو گستاخی گردان کر تمہیں سزا دے سکتا ہوں۔
________________________
یہ گڑیا میرے لیے بہت قیمتی ہے کیونکہ اسے میری ماں نے بنایا ہے۔
اس گڑیا کو بنانے اور اس کو سنوارنے میں میری ماں کے ہاتھ کئی بار سوئی کی وجہ سے چھلنی ہوئے۔ اس کی آنکھوں کو بنانے اور ان کی نوک پلک سنوارنے میں میری ماں نے اپنے کئی خواب سنوارے ہیں۔
اس کے ہونٹوں کو خوش رنگ اور دلربا بنانے کے لیے میری ماں نے اپنے پٹری زدہ ہونٹوں کو تر کرنے کے خواب دیکھے ہیں۔
اس گڑیا کے سنہری بالوں کو سنہری دھاگے سے ٹانکتے وقت میری ماں نے اپنے بالوں کی چاندی کو سیاہ رنگ میں بدلنے کے خواب دیکھے ہیں۔
میری ماں کی دس دن کی محنت کے بعد یہ گڑیا اس قابل ہوئی کہ یہ آنکھوں کو خیرہ کر سکے اس کے ایک ایک ٹانکے میں میری ماں کی محنت اور خواب شامل ہیں۔
شہزادی نے صرف گڑیا کو ریزہ ریزہ نہیں کیا بلکہ میری ماں کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کیا ہے اور میری ماں کے خوابوں کی قیمت یہ چند سکے نہیں ۔۔
______________________
کہانی ختم کرنے کے ساتھ ہی بی جان نے نائل کے چہرے کی طرف دیکھا جو شاید ابھی تک کہانی کے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے نائل کہ یہ کہانی آپ کو سنانے کا مقصد کیا ہے۔ بی جان کی آواز میں نائل کو حقیقت کی دنیا میں لا پٹخا وہ حقیقت کی دنیا جسے وہ چند لمحوں قبل بالکل فراموش کر چکا تھا اور اب اس حقیقت کا سامنا کرتے اس کے تن بدن میں کڑواہٹ پھیل گئی۔ جی بی جان میں بالکل نہیں سمجھا کہ آپ نے یہ کہانی مجھے کیونکر سنائی ،کڑواہٹ کا وہ زہر جو اس کے تن بدن میں پھیل چکا تھا اسے نائل کے ان الفاظ نے زبان تک رسائی دی۔
دیکھو بیٹا یہ جو بیٹیاں ہوتیں ہیں نا یہ بالکل اس بچے کی روئی کی گڑیا کی طرح ہوتی ہیں۔ بیٹیوں کی مائیں بیٹیوں کو پروان چڑھاتے ہوئے اپنا ایک ایک خواب ان کے ساتھ پروان چڑھاتی ہیں بالکل اس بچے کی ماں کی طرح جس نے اپنا ہر خواب اس گڑیا کی صورت میں پرویا۔
جس ماں نے اپنی گڑیا تمہارے حوالے کی اگر تم شہزادی کی طرح اس کی گڑیا میں نقص نکالو گے اور بعد میں اس گڑیا کو روئی کی طرح بکھیر دو گے، تو تم اس بھوکی ماں کی وہ تمام محنت اکارت کر دو گے جو اس نے اپنی گڑیا کو سجانے، سنوارنے میں کی جس نے اپنی بھوک مٹانے کی خاطر گڑیا بنائی کہ وہ اسے بیچ کر اپنا پیٹ بھر سکے۔
یہ بیٹیاں بھی بالکل اسی روئی کی گڑیا کی طرح ہوتی ہیں جن کو خوش دیکھ کر والدین اپنا پیٹ بھرتے ہیں اور اگر یہ گڑیا ناقدرے لوگوں میں جائے تو وہ ناقدرے لوگ والدین کے سارے خواب چکنا چور کر دیتے ہیں ان کے جینے کا واحد سہارا چھین لیتے ہیں۔
تو اب فیصلہ تمہارا ہے نائل کہ تم نے اس گڑیا ( انہوں نے عمارہ کی طرف اشارہ کیا جو پتہ نہیں کب سے وہاں کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی) کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے اس کی آنکھیں اور بال نوچ کر ، طلاق دے کر اسے روئی کی بکھیر کر اس کے والدین کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرنا ہے یا اسے اس کی خامیوں سمیت تسلیم کر کے اس کے والدین کی محنت کو جو انہوں نے اس گڑیا پر کی اس محنت کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔
اب فیصلہ تمہارا ہے۔
بی جان نے یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئیں اور پیچھے نائل اور عمارہ دونوں کو سوچ کا ایک نیا سرا تھما گئیں۔
_____________________
ایمن ریاض
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


