ارحم نے گلاب کے پھولوں کا گلدستہ دائیں ہاتھ میں سنبھال کر بائیں ہاتھ سے چابی نکال کر پیرس میں موجود اپنے خوبصورت اور پرآسائش فلیٹ کا دروازہ کھولا تھا ۔ اور بریف کیس کے ساتھ کوٹ اور چابی بھی لاونج کے صوفے پر رکھ دیئے تھے دبے قدموں سے اپنی بیوی انابیہ کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے کچن میں پہنچ گیا تھا ۔ اس کی پوری توجہ ارحم کے پسندیدہ ترین کوفتوں کے سالن پر تھی ۔ خوبصورت کچن میں کھڑی اس کے لیے تردد کے ساتھ مند پسند کھانا تیار کرتی ہوئی ۔ لمبی زلفوں اور کٹارا آنکھوں والی انابیہ جو پہلے ہی اس کے دل پر راج کرتی تھی اس وقت وہ اس کے معدے سے بھی راستہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
پیرس کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر فائز ارحم اور انابیہ جو کہ پاکستان سے تعلق رکھتے تھے ۔ مگر وہاں پر جاگیرداری نظام کے تحت اپنا سب کچھ کھونے کے بعد ایک نئی زندگی گزارنے کے لیے بیرون ملک سفر کیا تھا ۔ انابیہ نے اس کا ہر حال میں ساتھ نبھایا تھا ۔ وہ اس کے بہت سارے رشتوں میں سے بچنے والا آخری رشتہ جو تھا ۔ اس کے چچا کا بیٹا ۔ انابیہ جو لاڈوں کی پلی ہوئی تھی اس کے ساتھ رہنے کے لیے یورپ میں در در کی ٹھوکریں کھائیں تھیں ۔۔ میڈ کی نوکری بھی کی تھی
سینڈی کے پاس . جو مکمل طور پر فالج زدہ تھی اور اس کو اس کے پورے خاندان نے چھوڑ دیا تھا اس کی موت کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے سب . لیکن سینڈی نے اپنے گھر کے علاؤہ تمام دولت کو سونے میں تبدیل کردیا تھا . اور دن رات جی جان سے خدمت کرنے والی انابیہ کو دے دی تھی. اپنی موت سے ایک دن قبل اپنی مرضی سے کسی کے علم میں لائے بغیر انابیہ کے حوالے کر دیا تھا وہ سارا سونا . اور سب کے سامنے ہی اس کو منصوبے کے تحت ذلیل کرنے کے بعد نکل جانے کے لیے کہا تھا
انابیہ روتی ہوئی اس کا گھر چھوڑ کر آگئی تھی اور سیدھی ارحم کے پاس پہنچی تھی ۔ جو ایک چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں جاب کرتا تھا ۔ اور رات کو اس اسٹور کے ہی گودام میں مالک کی اجازت سے چند گھنٹے گزار لیتا تھا ۔ انابیہ نے سب کچھ اس کے سامنے پیش کیا تھا اور پھر وہ دونوں وہاں سے پیرس چلے آئے تھے ۔ پھر وقت کو پر لگ گئے تھے ۔ کتنے دن اور کتنے سال گزرے تھے انہیں خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے ہوئے علم نہیں ہوا تھا ۔ خوشحالی نے دونوں کے حال پر کرم کیا تھا ۔ دونوں ساتھ چلتے تھے تو چاند سورج کی جوڑی لگتی تھی ۔ ارحم نے محبت کے اظہار میں کبھی کوتاہی نہیں کی تھی ۔ ہر روز وہ ایک نئے انداز سے ظاہر کرتا تھا کہ وہ اس کے لیے کیا ہے ۔ وہ بھی ہر بار ایک نئے انداز میں سرشاری ظاہر کرتی تھی ۔ وقت گزرتا جارہا تھا ۔
”آج پورے تین ہفتے بعد ارحم میری طرف آرہا ہے “ انابیہ نے اس کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے کرب سے سوچا تھا ۔ وہ چاہتی تھی کہ آنکھیں میچ لے ۔ لیکن اب اس کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ وہ نزدیک آکر بیٹھ گیا تھا ۔ انابیہ نے اس کے وجود کی مہک کو شدت سے محسوس کیا تھا ۔۔ گویا تڑپ گئی تھی اس کی بانہوں کے حصار میں لوٹ جانے کے لیے ۔
لیکن پھر اس کے اور اپنے درمیان جمے دھول کے پردے کا خیال آیا تھا تو ساکت رہ گئی تھی ۔ وہ سسک رہا تھا ۔ اس کا مٹی ہوتا وجود سماعت بن گیا تھا ۔ ” انابیہ م مجھے معاف کر دو پلیز “ ارحم نے التجا کی تھی
انابیہ نے اپنی ٹوٹتی رگوں میں درد اترتا محسوس کیا تھا ۔ اس کے دکھ بھی اس کو کہاں برداشت تھے ۔ وہ تو صرف اور صرف اس کے لیے محبت تھا ، اس کا سانس ، اس کے جینے کی وجہ تھا ، ” میں نے تمھارے ساتھ ،چاندنی کے کہنے پر زیادتی کی تھی “ وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ، انابیہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ نہ روئے اس کو تکلیف ہو رہی ہے ،مگر مجبور تھی ۔ ” میں نے یہ جاننے کے بعد کہ تم کبھی ماں نہیں بن سکتی ، اس سے ملاقات کی تھی ، میں اپنے باپ کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے صرف ایک اولاد چاہتا تھا ، اس کو تمھاری ہی گود میں ڈالتا ،تم بھی تو محرومی کی وجہ سے دکھ میں مبتلا ہو گئی تھی ، میں نے اس سے ڈیل کی تھی ، دو لاکھ ڈالر کے عوض ایک بچہ چاہا تھا ، اس نے ہی احساس دلایا کہ نکاح کے بغیر وہ جائز نہیں ہوگا ، میں نے اس لیے ہی نکاح کیا تھا “ وہ چپ ہو گیا تھا
” میں یہ سب کچھ جانتی ہوں پہلے سے ہی ، قدم قدم پر تمھاری وفا کا یقین رکھتے ہوئے تمھارے ساتھ ہی تو تھی “ انابیہ کے سوکھ کر ٹکڑے ہو جانے والے دل سے سدا نکلی تھی اس نے نہیں سنا تھا وہ بدستور سسکتا رہا تھا ، ” چاندنی نے دو جڑواں بیٹوں کو جنم دیا تھا اور میں اس کو طلاق دینے کے وعدے سے مکر گیا تھا ، یہ میری پہلی بھول تھی “ اس نے اعتراف کیا تھا ۔ انابیہ کے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر تمسخر نظر آرہا تھا ،
” پھر اس کو تمھارا وجود کھٹکنے لگا تھا ، اور وہ تمھیں پہلے گھر سے ،پھر میری زندگی سے ہی نکالنے کے در پر ہو گئی تھی ، میں نہیں جانتا تھا کہ کیا ہوا تھا ، مگر تم اچانک مجھے چھوڑ کے چلی گئیں تھیں اور اور اب وہ بھی زریاب اور فارز کو میرے پاس چھوڑ کر چلی گئی ہے ، انابیہ میرے پاس اس کی کوئی یاد باقی نہیں رہی ہے ، میرے اندر باہر ہر جگہ تم ہی تم ہو ، میں اپنی ہی محبت کو پہچان نہیں پایا تھا ، کتنا بڑا احمق انسان تھا میں ، انابیہ میں تم سے محبت کرتا ہوں صرف تم سے ، پتہ نہیں میں کیوں بہک گیا تھا ؟ “ ارحم اس کے اور اپنے درمیان حائل دھول کو اپنے بے تحاشا بہتے آنسوں سے دھو دینا چاہتا تھا ،
” میں نے معاف کر دیا ہے ارحم تمھیں ، تمھارے سوا میرا تھا ہی کون ؟ ، ہاں میں نے جس زہر سے اپنا خاتمہ کیا تھا ،وہی زہر ایک لپ اسٹک پر لگا کر رکھ دیا تھا ، میں جانتی تھی ،جس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا تھا وہ میرا میک اپ بکس بھی ضرور اپنے تصرف میں لے لے گی “ انابیہ کے خاک میں ملتے ہوئے وجود میں مسرت کی لہر دوڑ گئی تھی ،
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |



افسانچہ اچھا رہا۔ ماشاءاللہ ♥️
خاص طور پر پنچ لائن💗
اللہ تعالیٰ کرے زور قلم اور زیادہ ۔۔۔