میں نے اشتیاق احمد مرحوم سے کیا سیکھا؟
تحریر: ریحان خان

سوچ رہا ہوں اِس عنوان كے تحت کیا لکھوں یا کیا کیا لکھوں کہ ان کے بارے میں اتنا کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے کہ اب میں اِس میں کیا اضافہ کروں یہ میری سمجھ سے باہر ہے لیکن کیا کریں جناب اب کچھ نا کچھ تو لکھنا ہی پڑے گا کہ اب قلم جو اٹھا لیا ہے ، یا یہ کہوں کہ اپنا لیپ ٹاپ جو اٹھا لیا ہے
یہاں اشتیاق صاحب کی شخصیت یا انکی اَدَبی اور دینی خدمات میرا موضوع نہیں بلکہ آج میں زاتی طور پر انکی سادہ مزاج شخصیت یا انکی تحریروں کا جو میری زندگی پر اثر ہوا اور میں نے جو کچھ اِس سے سیکھا شعوری یا لا شعوری طور پر وہ تھوڑا بہت بیان کرنا چاہتا ہوں
میں اشتیاق صاحب كے ان پڑھنے والوں میں سے نہیں جو آپکو یہ بتا دے کہ پہلا ناول کونسا اور کب پڑھا یا ان کے سارے ناولز میرے پاس ہوں یا مجھے ان کے سارے ناولز كے نام تک یاد ہوں
میں بہت عام سا قاری تھا انکا جس کو پڑھنے پڑھانے کا شوق بچپن سے تھا اور عمرو عیار کی کہانیوں سے لے کر نونہال تک اور تعلیم و تربیت سے لے کر آنکھ مچولی تک سب ہی کچھ پڑھا کرتا تھا اور ایک دن جب میں نے اپنے ماموں کو دیکھا کہ کچھ کتابیں کسی لائبریری سے لاۓ ہیں تو فوراً انہیں دیکھا! وہ کل 4 ناولز تھے اشتیاق صاحب کے بس جناب میں نے جب ان میں سے ایک کو پڑھنا شروع کیا تو یقین کریں ایک ہی نشست میں وہ چاروں ناولز پڑھ ڈالے اور اسکے بعد بھی ایسی تشنگی رہ گئی جیسے حاتم تائی كے 7 سوالوں میں سے ایک تھا کہ “ایک بار دیکھا ہے دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے ”
اسکے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور نیۓ پرانے سب ناولز پڑھ ڈالے
یہیں سے مجھے احادیث کو پڑھنے کا شوق ہوا جو آج بھی قائم ہے الحمداللہ
نمازیں میں پہلے بھی پڑھا کرتا تھا مگر جب بھی کتاب ہاتھ میں لیتا اور پڑھتا کہ ناول پڑھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ یہ نماز کا وقت تو نہیں تو جناب یقین کریں پہلے نماز کی ادائیگی کی جاتی یا دوسرے ضروری کام نمٹاۓ جاتے پِھر کتاب لے کر اس میں گم ہو جاتا
بطور ایک پاکستانی ہم سب میں ہی کسی نا کسی حد تک حب الوطنی کا جذبہ موجود ہے مگر میں آج یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اشتیاق احمد كے ناولز پڑھنے والے ایک عام پاکستانی سے زیادہ حب وطن ہوتے ہیں اور اپنے وطن كے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جذبہ اپنے دِل میں لیے پھرتے ہیں
زندگی كے نشیب و فراز میں جب کبھی بھی کسی آزمائش سے پالا پڑا یا کوئی مشکل سامنے آئی تو اشتیاق صاحب كے کرداروں کی طرح پریشان ہونے كے بجائے اپنے آپکو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دماغ چلانے کی کوشش کی کہ اس پریشانی کا حَل کیسے نکالا جا سکتا ہے اور اللہ سے دعا بھی کی اِس یقین كے ساتھ کہ بے شک وہی اپنی رحمت سے ہماری پریشانیوں کو دور کر سکتا ہے .
چھوٹے بڑوں سے کس طرح بات کرنی چائیے کیسا بڑوں کا ادب کرنا چائیے یہ میں نے اپنے والدین کی تربیت كے ساتھ ساتھ اشتیاق احمد کے کرداروں سے بھی سیکھا .
فلمی میگزین بڑے شوق سے پڑھا کرتا تھا جو اس زمانے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا تو چھپ چھپ کر پڑھا کرتا تھا مگر جب اشتیاق صاحب كے ناولز کا چسکہ پڑا تو اِس قسم کا مواد پڑھنا ہی چھوڑ دیا.
حالات حاظرہ سے دلچسپی ہوئی تو دنیا جو اس وقت تبدیل ہونا شروع ہو گئی تھی اسکو بھی دیکھنا شروع کیا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ، نت نئی یجاداات کیا ہیں اور دنیا کیسے آگے بڑھ رہی ہے .
پِھر اشتیاق صاحب کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی خاص کر 9/11 كے واقعات كے بعد جہاں ایک طرف وہ پہلے ہی دینی مزاج رکھتے تھے اور دوسری طرف انکی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو چکا تھا
جب افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو وہاں سے بڑی اچھی اور ایک لحاظ سے عجیب خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ انہوں نے افغانستان پر اسلامی شریعت نافذ کردی ہے جسکے بعد وہاں پوست کی کاشت پر پابندی لگی تو کبھی انہوں نے بامیان كے بت گرا کر دنیا کو حیران کر دیا
اس زمانے میں طالبان کی خبریں صرف ایک ہی اخبار دیا کرتا تھا جسکا نام تھا “ضرب مومن” میں نے وہ پڑھنا شروع کیا تو بڑا مزا آنے لگا پِھر میں اسکا ایک مستقل قاری بنتا چلا گیا
اسی دوران اشتیاق احمد صاحب نے اپنی کسی ناول کی 2 باتیں میں ملا عمر كے متعلق اپنے تاثرات بیان کیے اور ایک طرح سے انہیں خراج تحسین پیش کیا وہاں دوسری طرف انہوں نے اپنے قارین سے بھی کہا کہ وہ ضرب مومن پڑھا کریں جسکے بعد وہ اخبار باقاعدگی سے پڑھنا شروع کر دیا
پِھر میں نے دیکھا کہ یہی 2 باتیں اس اخبار کی بھی زینت بنیں اور آہستہ آہستہ اشتیاق صاحب اِس اخبار اور ادارے سے وابستہ ہوتے چلے گئے جہاں انہوں نے روزنامہ اسلام ، بچوں کا اسلام اور خواتیں کا اسلام میں لکھنا شروع کیا اور اپنا وقت وہاں دینا شروع کر دیا .
اسکے بعد انہوں نے “عبدللہ فارانی “ كے نام سے لکھنا شروع کیا اور کیا ہی لکھا جس میں انکی قدم بہ قدم سیریز بہت مشہور ہوئی اور انکی جاسوسی سیریز كے بعد اِس اسلامی سیریز نے بھی اپنا ایک الگ ہی مقام بنایا
ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ انکی ایک پرانی سیریز کا تسلسل تھا جیسے “ حسین کی باتیں ، صحابہ کی باتیں ، قیامت کب آئیگی وغیرہ .
اِس سیریز کی میری پَسَنْدِیدَہ کتاب “آئمہ کرام قدم بہ قدم ” ہے جس میں انہوں نے چاروں آئمہ کرام كے بارے میں بڑے آسان انداز میں انکی پیدائش سے لے کر وفات تک کے حالات بتاۓ تھے .
مختصر یہ کہ میں نے اشتیاق صاحب سے صرف دنیا ہی نہیں دین بھی سیکھا ہے
انکی وفات سے 3 سال پہلے کراچی ایکسپو میں ان سے ملاقات بھی ہوئی جو میری زندگی كے یادگار لمحات میں سے ایک ہے .
آج میری کامیابیون میں جہاں میرے والدین کی دعائیں اور تربیت کا ہاتھ ہے وہیں کہیں نا کہیں اشتیاق احمد مرحوم کا بھی غائبانہ ہاتھ ہمیشہ میرے سَر پر رہا .
اللہ پاک انکی مغفرت کرے ااور انہیں جنّت فردوس میں اعلا مقام عطا کرے آمین ثم آمین
تحریر : ریحان خان (کراچی)
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


