ِ رائٹر اکاؤنٹ بنائیے
  ِاپنی تحریر پوسٹ کیجئے
  مفت ناول ڈاؤن لوڈ کیجئے
ِ آن لائن شاپ / کتاب آرڈر کیجئے  
       
       
  قسط وار ناول پڑھئے
  بچوں کی کہانیاں پڑھئے
  بلاگ بنانا سیکھئے
ِدیگر اہم اصناف  
       

قارئین کی پسندیدہ کیٹگریز

              

خونی تحریر (افسانہ)

khooni tehreer

خونی تحریر

از : افشین نسیم 

جب وہ دانتوں میں دباتے ہیں گلابی آنچل
کتنے پرکیف نظاروں کو سزا ملتی ہے

 

الشبہ کافی دیر سے بیٹھی ہوئی کسی گہری سوچ میں گم تھی اور اس کے ہاتھ کے قریب کچھ دیر قبل ہی اس کی چھوٹی بہن عنبر گرم چائے کا کپ رکھ کر گئی تھی ۔

لیکن اس کو اپنی گہری سوچ میں احساس ہی نہیں ہوا تھا۔ اچانک اس نے ہاتھ کو حرکت دی اور قریب تھا کہ چائے کا مگ چھلک کر اس کا ہاتھ جلا دیتا کہ اس کے دوست ،ہمدرد ، ہم نفس ، محبوب ، صارم نے اپنے خوبصورت سیاہ بالوں سے بھرے مردانہ ہاتھوں سے کپ کو گرنے سے بچا لیا  اور اس کے گالوں کو چھیڑتی ایک شریر لٹ کو پکڑ کر اس کے کان کے پیچھے اڑس کر اس کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے مسکرایا ۔

اس کے گھنی مونچھوں کے نیچے گلابی موٹے ہونٹوں پر مسکراہٹ ایسی ہی لگتی تھی کہ اس کا دل ڈوب ڈوب جاتا تھا ۔

وہ اس کے نزدیک ہو کر بولا تھا۔” کیا ہوا میری شہزادی کیا سوچ رہی ہو ، یہ نازک مرمریں ہاتھ ابھی جل جاتے تو پتہ ہے کیا ہوتا ؟ “

 اس نے بڑے ناز سے پوچھا تھا” بھلا کیا ہوتا ؟ “ اور معصومیت سے پلکیں جھپکیں تھیں
” تمھارے ہاتھ میں میرا دل تھا وہ بھی جل جاتا “ وہ پھر مسکرا کر بولا تھا ۔”
  اچھا جی “ ۔اس کی پلکیں حیا کے بوجھ سے جھک گئیں تھیں۔”
 اچھا ۔۔پریشان کیوں ہو وہ بتاؤ “ اب اس نے اپنی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں اس پر مرکوز کر دیں تھیں ۔۔”
” دیکھو صارم! ہے تو یہ غلط بات لیکن میں مشہور لکھاری کے کرداروں پر لکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ وہ جاسوسی کہانیاں لکھتے تھے تو مجھے کوئی جاسوسی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی “ وہ اس کی قربت میں ویسے ہی سب بھولنے لگتی تھی ۔
” ہاں الشبہ یہ بات ہے تو غلط ہی لیکن میں تو تمھاری غلط بات پر بھی صاد کرنے پر مجبور ہوں ، اچھا میں بتاتا ہوں تم کیا لکھو “

وہ سوچ میں پڑ گیا تھا اور وہ موقع سے فائدہ اٹھا کر اس کو نظروں میں بسانے لگی تھی ۔ چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔
  اوں! دیکھو ایک آدمی رات کے وقت اپنی گاڑی میں ایک میٹنگ میں سے واپس آرہا تھا ، اس کا فیکٹری کا ایک پرانا نوکر جس کو اس نے زرا سی بات پر نوکری سے نکال دیا تھا راستے میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ بہت غریب تھا اور نوکری چھن جانے سے اس کی محبوبہ اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی جس کو اس نے کم از کم پچاس ہزار کا ایزی لوڈ کرا کر دیا ہوا تھا ۔وہ اس کے چھوڑ دینے سے انتقام کی آگ میں جل کر وہاں پر موجود تھا ، وہ ایک سنسان گلی تھی جب فیکٹری کا مالک وہاں پہنچتا ہے تو وہ اس کو روک لیتا ہے اور گاڑی سے نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے “ صارم سانس لینے کے لیے رکا۔
  بھلا کیسے مجبور کیا تھا ، اس کے پاس گن تھی ؟ “ الشبہ نے اشتیاق سے پوچھا۔”
میں صرف آئیڈیا دے رہا ہوں گن وغیرہ کے بارے میں مجھے نہیں معلوم “ وہ یوں خوف زدہ ہو گیا تھا جیسے الشبہ نے غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ کا الزام ہی لگا دیا ہے ۔”
 اوہ اچھا اچھا ٹھیک ہے تم کہو “ وہ جلدی سے بولی تھی ، وہ چند لمحے خاموش رہا تھا شاید خوف سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔”
  ہاں تو کہاں تھا میں ؟ “ اس نے پوچھا تھا”
  تم یہاں کرسی پر “ اس نے جلدی سے مسئلہ حل کیا تھا ۔اس نے خفگی سے دیکھا تھا”
  وہ اس کو گاڑی سے نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے “ اس نے یاد دلایا”
” ہاں ، پھر وہ اس کو کھینچتا ہوا قریب ہی موجود ایک دس منزلہ عمارت جو زیر تعمیر تھی اس کی چھت پر لے جاتا ہے اور وہاں سے دھکا دے دیتا ہے ”
 لیکن وہ تو ایک گلی تھی ؟ “ الشبہ نے ٹوکا”
  تو کیا بلڈنگ گلی میں نہیں ہو سکتی ہے ؟ “ وہ ناراض ہو گیا تھا”
 بالکل ہو سکتی ہے معاف کر دو “ وہ بے تابی سے بولی تھی کہ کہیں وہ چلا نہ جائے”
” ہاں تو وہ اس کو دھکیلنے کے بعد اوپر سے دیکھتا ہے کہ وہ اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد بھی مرا نہیں تھا ۔

“اس لیے وہ چھت پر پڑا ہوا ایک کنکریٹ کا بھاری ستون اٹھا کر نشانہ لے کر اس کو مار دیتا ہے ”
  صارم کنکریٹ کا بھاری ستون اٹھا کر ماردیتا ہے ؟ وہ انسان ہی تھا ناں ؟ اور دسویں منزل سے گر کر وہ شخص مرا کیوں نہیں تھا “ وہ سخت الجھن میں تھی”
  میں اب چلتا ہوں “ صارم نے ناراضگی سے کہا تھا”
  میں معذرت چاہتی ہوں “ اس نے کچھ اس لجاجت سے کہا تھا کہ وہ واپس بیٹھ گیا تھا”
” وہ غصے سے نیچے آتا ہے تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا وہ مر گیا ہے یا زندہ ہے ، تو وہ ابھی تک زندہ تھا اور کراہ رہا تھا۔”

“اس کو مزید غصہ آتا ہے اور وہ قریب سے گزرتے تربوز والے کے ٹھیلے پرسے چاقو اٹھا کر لاتا ہے اور اس کی گردن الگ کر دیتا ہے “
  لیکن وہ پھر بھی نہیں مرتا ؟ “ الشبہ نے تشویش سے پوچھا تھا”
  ارے وہ انسان تھا کوئی روبوٹ نہیں کہ گردن الگ ہوگئی تھی اور وہ ابھی بھی نہ مرتا ؟ “ ۔

اب صارم سچ میں ناراض ہو گیا تھا ۔ 
  چلو شکر ہے آخر وہ مر ہی گیا تھا ، “ الشبہ نے اطمینان کا سانس لیا تھا”
  ہاں پھر پولیس آتی ہے یعنی اس مصنف کے کردار “ صارم نے کہا تو الشبہ نے بہت ضبط سے مزید سننے کا حوصلہ پیدا کیا تھا ۔”
” وہ آتے ہی سب سے پہلے اس کی گاڑی کی تلاشی لیتے ہیں ، پھر بلڈنگ کی چھت پر جاتے ہیں۔”

لیکن مجرم نے کوئی سراغ نہیں چھوڑا تھا “ صارم کے لہجے میں فخر محسوس ہوتا ہے جیسے مجرم وہی تو تھا”
  صارم ۔۔وہ تربوز والا “ الشبہ نے یاد دلایا”
  اس کو کوئی اور کام نہیں تھا کیا ، بونی کا وقت تھا وہ کام پر چلا گیا تھا اپنی چھری لے کر “ صارم کی آنکھوں میں غصہ نظر آیا تھا”
  بونی کا وقت ؟ تم نے کہا تھا رات ہو رہی تھی ؟ “ الشبہ نے حیرت سے پوچھا”
  تو تمھیں اس سے کیا ؟ وہ کبھی بھی بیچے دن میں یا رات میں اس کے تربوز تھے “ اب صارم کی سانسیں تیز ہو گئی تھی”
  اچھا اچھا ٹھیک ہے ، لیکن مجرم پکڑا نہیں گیا تو جاسوسی کہانی لکھنے کا فائدہ کیا ؟ “ الشبہ مایوسی سے بولی”
  بھلا جاسوسی کہانی لکھنے کے لیے کس گدھے نے کہا تھا تم سے ؟ “ صارم آپے سے باہر ہو رہا تھا”
  تم ہی تو ابھی کہانی سنا رہے تھے “ الشبہ نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا ۔”
  یعنی میں گدھا ہوں ؟ “ صارم غصے سے کھڑا ہو گیا تھا”
  ارے میں نے ایسا کب کہا تھا ؟ “ الشبہ نے حیرت سے پوچھا”
” تو تم نے یہ کیوں کہا کہ میں کہانی سنا رہا تھا ، تم نے ہی تو کہا تھا کہ تم کسی مصنف کے کردار چوری کر کے لکھو گی “ ۔

صارم غصے سے کانپ رہا تھا اور اب الشبہ نے اپنے بازو میں زور سے چٹکی کاٹی تھی اور اس کا تصور ٹوٹ گیا تھا ۔

صارم غائب ہو گیا تھا اور اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔

لیکن وہ اس کہانی پر ہی لکھنے کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اس کے تصوراتی محبوب نے بتائی تھی اس کو اپنے محبوب کی ناراضگی برداشت نہیں تھی ناں ۔

ختم شد  

افشین نسیم

کراچی پاکستان 

 

 


اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولز Nimra Ahmed Novels  عمیرہ احمد کے ناولز Umera Ahmed Novels  اشتیاق احمد کے ناولز Ishtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریز Imran Series دیوتا سیریز Devta Series انسپکٹر جمشید سیریز Inspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولز شہزاد بشیر کے ناولز Shahzad Bashir Novels نسیم حجازی کے ناولز Naseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟  We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff !   | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon

Afsheen-naseem

افشین نسیم کراچی پاکستان سے ، 2020 سے ،،صائم ایاز ، سیریز کی کہانیاں تحریر کی ہیں ، نئے افق ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave the field below empty!

Next Post

ذہنی سکون

Tue Sep 26 , 2023
کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان  کے پاس دنیاوی طور پر سب کچھ موجود ہوتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنی زندگی سے نالاں ہی نظر آتا ہے۔ ایسے وقت میں اس کو کسی چیز کی نہیں صرف ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندگی میں […]

ایسی مزید دلچسپ تحریریں پڑھئے

Chief Editor

Shahzad Bashir

Shahzad Bashir is a Pakistani Entrepreneur / Author / Blogger / Publisher since 2011.