ٹرن ٹرن
ٹرن ٹرن
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی کوئی اٹھا نہیں رہا تھا
بالآخر کیچن سے خسراہ کاکا آئے اور فون اٹھایا
ہیلو کون
دوسری طرف سے آواز آئی
اسلام علیکم میں مہناز رحمان بات کر رہی ہو کیا نورین سے بات ہو سکتی ہے ؟
وعلیکم اسلام مہناز کیسی ہو ٹھیک ٹھاک ہو نا
میں ابھی نورین کو بلاتا ہوں
اور خسراہ کاکا نے آواز دی نورین نورین آپکی سہیلی مہناز کا فون ہے
جلدی او میں نے باورچی خانہ میں توے پر ڈبل روٹی رکھی ہے جلدی او
نورین یہ سن کر فورا کمرے کیطرف بھاگی
اور فون کا ریسیور اٹھایا
اسلام علیکم مہناز کیا حال چال ہے
امی کیسی ہے
چچی جان کیسی ہے؟
کوثر کیسی ہے
کوثر مہناز کی چھوٹی بہن تھی
وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نورین
سب ٹھیک ٹھاک ہے الحمدللہ
اللہ تعالی کا بڑا کرم ہے
وہ میں نے فون اس لئے کیا کہ بڑے دن ہوئے ملے ہوئے آج ہمارے گھر او
کچھ عمرو عیار کی کہانیاں اور ٹارزن کی کہانیاں کا نیا سٹاک آیا ہے موسی خان چاچا کی شاپ پر وہاں چلتے ہے اور دیکھتے ہے
نورین نے جھٹ پٹ فون رکھ دیا بغیر جواب دئے
کیونکہ بچوں کی کتابوں سے تو نورین کو عشق تھا
نورین کمرے میں گئی اور امی سے پچاس روپے لئے اور مہناز کیطرف چلی گئی
جب مہناز کے گھر پہنچی تو مہناز کی امی نے پرانے بکس سے پرانے سوٹ شلوار قمیض اور ڈوپٹے نکالے ہوئے تھے
مہناز نے نورین کو دیکھا اور خوش ہو کر اسی کمرے میں لے گئی وہاں اس سے کہا تم بیٹھو تو مہناز کی بڑی بہن فورا کیچن گئی اور نورین کے لئے چائے بنانے گئی اور کوثر بازار سے شادی کاکا کے شاپ سے بسکٹ لانے چلی گئی
اسی دوران مہناز کی بڑی بہن ٹرے میں چائے سجائے ہوئے اور بسکٹ لے آئی
نورین اور مہناز چائے پینے لگے
اچانک دیکھا کہ سر پر گھٹری لئے بنیادی ترور آئی
مہناز کی ماں نے کہا سلام بنیادی بہن کیسی ہو
آج بڑے دنوں بعد آئی ہو
نورین نے کہا سلام
بنیادی خالہ
تو بنیادی خالہ نے کہا واہ آج تو خان کی بیٹی بھی آئی ہوئی ہے کیا بات ہے
مہناز نے کہا بنیادی خالہ ہم ابھی بس جارہے ہے تم امی کیساتھ گپ شپ کرو
اچانک مہناز نے کہا کہ امی یہ جو آپ نے پرانے کپڑے بکس سے نکالے ہے
یہ پرانے دو سوٹ جارجٹ کے
بنیادی خالہ کو دے دو
یہ سن کر بنیادی خالہ بولی
جگ جگ جیو میری بچی
دیکھا کتنی کام کی بات کئ
تو نورین نے کہا نہیں نہیں نہیں
مت دو
بنیادی خالہ بولی کیوں نورین بیٹی ایسا کیوں بول رہی ہو؟
تو نورین نے کہا اس لئے
بنیادی خالہ
کیونکہ ہمارے آقا محترم جناب حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو چیز تم اپنے لئے پسند کرو وہی چیز اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرو
یعنی بہترین انسان وہ ہے جو اچھی نیکی کریں
اللہ تعالی کے نام پر ہمیشہ اعلی اور عمدہ چیز دینی چائیے ناکہ پرانی
وہ سخی بادشاہ رب العزت جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ خود طیب و طاہر ہے
تو کیا وہ پرانا اور ردی مال پسند کرے گا؟
یہ سن کر مہناز کی ماں بولی بلکل ٹھیک بولا نورین نے تو مہناز نے کہا اچھا تو پھر رہنے دو
مہناز کی ماں نے کہا
بنیادی بہن کل مجھے مہناز کے ابو نے روپے دئے ہے
اس میں تمھارے لئے نیا سوٹ کل تحصیل بازار سے خرید کر تمھیں دے دونگی
یہ تو بچے ہے یہ کچھ نہیں سمجھتے
یہ سن کر بنیادی خالہ کی جیسے عید ہو گئی
اور خوش ہو گئی
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


