ِ رائٹر اکاؤنٹ بنائیے
  ِاپنی تحریر پوسٹ کیجئے
  مفت ناول ڈاؤن لوڈ کیجئے
ِ آن لائن شاپ / کتاب آرڈر کیجئے  
       
       
  قسط وار ناول پڑھئے
  بچوں کی کہانیاں پڑھئے
  بلاگ بنانا سیکھئے
ِدیگر اہم اصناف  
       

قارئین کی پسندیدہ کیٹگریز

              

بےقرار دل

بےقرار دل
نورین خان
گاؤں کا پرانا    برگدکا درخت جس کی شاخیں جھکی ہوئی تھی زمین کیطرف اور ہمارے گاؤں کے بڑے بزرگوں نے فرمایا کہ یہ بوڑھا برگد درخت ہے اور یہ درخت سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے
اسی درخت کے سائے میں شامو کاکا اور کریمو چاچا بیٹھے ہوئے تھے دونوں ستر سال سے اوپر کے تھے اور بچپن کے پکے جگری دوست تھے شامو کاکا کا دل تو سمندر تھا انکے دل میں ہزاروں قصے اور واقعات چھپے ہوئے تھے
گاؤں کے بچے شامو کاکا سے بہت محبت کرتے تھے اور ہمیشہ اسکے گرد ڈھیرہ جما کے بیٹھے رہتے تھے
کریمو چاچا نے کہا یار شمس الدین میں ذرا دودھ پتی چائے کا گھر میں کہہ کے آتا ہوں دونوں دوست گرم گرم چائے پی کر پھر گپ شپ کریں گے شامو کاکا نے کہا اچھا یار کریم جلدی آنا
کریمو چاچا چلے گئے اور شامو کاکا اپنے بچپن کی یادوں میں کھو گئے کہ کیسے گاؤں کے نہر میں سب دوست نہاتے اور پھر شرارتیں کرتے اور اسی برگد کے پیڑ کے نیچے شام کو سکول کا ہوم ورک کرتے اور سارے دوست ایک دوسرے کو مزے مزے کی کہانیاں سناتے آہ کیا وقت تھا
جب بجلی موجود نا تھی
مگر گاؤں کے کھلے گھروں میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلتی اور ہمیں کبھی گرمی کا احساس نا ہوتا اور بےخبر رہتے
جب ٹی وی نا تھا
اور گاؤں کے بڑے بزرگ ہمیں کہانیاں سناتے اور ہم سب بچے خوشی سے ناچتے
جب ایک روپے میں پورے دو ہفتوں کی ٹافیاں آجاتی تھی اور ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نا ہوتا
آہ کیا خوبصورت دن تھے شامو
کیا یاد دلا دیا
شامو کاکا انہیں یادوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ کریمو چاچا کیتلی میں گرم گرم چائے اور پلیٹ میں سوجی کا حلوہ لے آئے
چلو شامو پیالیوں میں چائے ڈالو آج سکینہ نے سوجی کا حلوہ بھی بنایا ہے سکینہ کریمو چاچا کی نواسی تھی اور پاس ہی پرائمری سکول میں پڑھتی تھی ابھی شامو کاکا نے چائے ڈالی ہی تھی کہ اچانک گاؤں کے نکڑ میں جس فضل دین کی دوکان تھی اسکا بڑا لڑکا فراز روتے ہوئے آرہا تھا اور مسلسل روئے ہی جارہا تھا اور
ٹیوب ویل کیساتھ کھڑا رو رہا تھا
کریمو چاچا نے کہا بیٹا ادھر آو
ایسی بھی کیا بےقراری ہے؟
کیوں رو رہے ہو
کیا کسی نے مارا ہے
کیا دوستوں سے لڑائی ہوئی ہے
بتاو تو آخر معاملہ کیا ہے
فراز بولا کریمو چاچا آج میرا ریزلٹ تھا پرچے کا اور میرے نمبر معاشرتی علوم میں بہت ہی کم آئے ہے بس یوں سمجھ لیں ایک نمبر سے پاس ہوا ہوں
یہ سن کر شامو کاکا بولے
ارے بھئی فراز اس میں رونے کی کیا بات ہے بھلا ؟
پاس تو ہو گئے ہو نہ
بھلے ایک نمبر سے
یہ اتنی بےچینی اور بےقراری اور رونا دھونا ٹھیک نہیں بیٹا پہلے محنت کرو اچھی طرح اور سبق یاد کرو پھر اللہ کا نام لے کر پرچہ حل کرو اور نتیجہ اس مہربان رب پر چھوڑ دو
وہی مہربان ذات ہے جو بندوں کے بےقرار دل کو سکون دیتا ہے اطمینان دیتا ہے
اور وہی ایک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے
ساتھ ہی کریمو چاچا پیالی سے سڑ شڑ کی آوازیں نکال کے مزے سے دودھ پتی چائے پینے لگے اور ہاتھ سے حلوہ بھی کھانے لگے
شامو کاکا نے کہا فراز بیٹا ادھر او ہمارے پاس بیٹھو میں
‏ میں ایک واقعہ
تمھیں سناتا ہوں
فراز بیٹا سنو
مولانا روم رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
” ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ عنہُ حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں نہ پا کر بے تاب ہو گئے اور شوقِ دِید میں نِکلے،دریافت کِیا تو کسی نے پہاڑ کی طرف اِشارہ کِیا۔وہاں گئے تو چرواہا بکریاں چَرا رہا تھا۔اس سے پوچھا کہ میرے آقا
( صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ) کو کہیں دیکھا ہے؟ “
اس نے کہا:
” میں تیرے آقا کو تو نہیں جانتا،اِتنا جانتا ہوں کہ اس غار میں کوئی اس قدر درد و سوز سے گریہ و زاری کر رہا ہے کہ میری بکریوں نے ہی نہیں بلکہ تمام چرِند و پرِند نے کھانا پینا ہی چھوڑا ہُوا ہے۔ “
حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ عنہُ نے فرمایا:
” کچھ جانتا ہے،الفاظ کیا بولتا ہے؟ “
تو چرواہے نے کہا:
می کند با گریہ ہر ساعتی،نالہء یااُمّتی یااُمّتی۔
” ہر گھڑی یااُمّتی یااُمّتی کی پُکار کر رہا ہے۔ “
( شانِ مُصطفیٰ بزبان مُصطفیٰ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ” بلفظ اَنا ” صفحہ 622 )
اُمّت کی بخشش کی خاطر سرکار صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے بوقت پیدائش بھی دعا کی:
رب ھب لی اُمّتی۔
” یااللہ میری اُمّت کو بخش دے۔ “
( احیاءالقلوب،صفحہ 22 )
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
تمہارے ہی لیے تھا اے گنہ گار و سیہ کارو
وہ شب بھر جاگنا اور رات بھر رونا محمد کا
صلی الله علی وآلہ وسلم❤️❤️❤️
فراز بولا شامو چاچا اب میں بھی ہر وقت اللہ پاک سے دعا مانگوں گا اور اللہ پر ہی بھروسہ کرونگا اور فراز ہنستے مسکراتے اپنے والد کی پرچون کی دوکان پر چلا گیا۔

اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولز Nimra Ahmed Novels  عمیرہ احمد کے ناولز Umera Ahmed Novels  اشتیاق احمد کے ناولز Ishtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریز Imran Series دیوتا سیریز Devta Series انسپکٹر جمشید سیریز Inspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولز شہزاد بشیر کے ناولز Shahzad Bashir Novels نسیم حجازی کے ناولز Naseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟  We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff !   | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon

Noreen Khan

I,m a writer & author who wishes to spend the rest of her life creating & telling beautiful stories.I hope that you'll enjoy your time visiting.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave the field below empty!

Next Post

وا ئلڈ لینڈ سے فرار (تبصرہ:عرفان مرتضیٰ)

Thu Sep 21 , 2023
“وا ئلڈ لینڈ سے فرار” مصنف : شہزاد بشیر تبصرہ:عرفان مرتضیٰ     ٍوا ئلڈ لینڈ سے فرار” ردوان سیریز  “کا    دوسرا ناول ہے جو کہ اس  سیریز میں ایک دلچسپ اضافہ ہے۔ یہ ناول کہانی کے ہیرو ردوان کے  ماضی کے بند دروازوں  کو کھولتاہے۔ پورے ناول میں […]

ایسی مزید دلچسپ تحریریں پڑھئے

Chief Editor

Shahzad Bashir

Shahzad Bashir is a Pakistani Entrepreneur / Author / Blogger / Publisher since 2011.