
علم دین (افسانہ)
از : افشین نسیم
عاشر ۔۔ یار مجھے اپنی وہ سفید پرنس کوٹ دے یار ۔آج کافی سردی ہے اور مجھے اس سفید گرتے کے ساتھ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے “۔”
احمر نے اپنے دوست عاشر سے کہا تھا اور وہ منہ بناتے ہوئے اپنا نیا سفید پرنس کوٹ لینے چلا گیا تھا ۔۔
اس نے ابھی تک خود بھی وہ کورٹ نہیں پہنا تھا
” یہ لو ۔ لیکن دیکھو میں نے بھی یہ ابھی تک نہیں پہنا ہے “
” او یار فکر نہیں کر ۔۔ محفل سے واپس آکر دے دوں گا ” احمر مسکرایا ۔”
نہایت خوبصورت سی داڑھی اس کے چہرے پر بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی ۔۔ اور اس کی خوبصورت آواز کا ایک زمانہ مداح تھا ۔
آج بھی وہ دونوں ایک محفل میں درس و میلاد النبی کے لیے مدعو تھے ۔
ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر
انکی تصویر سینے میں موجود ہے
احمر کی مسحور کن آواز سامعین کے دلوں میں سوزوگداز پیدا کر رہی تھی ۔ اور عاشر ہینڈی کیم میں محفوظ کر رہا تھا ۔
پھر احمر نے درس شروع کیا ۔
،میرے بھائیو بہنوں
ہمارے لئے مشعل راہ ہے سیرت النبی
انکے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اور
اپنے نفس کی خواہش کو قربان کر کے
ہی ہم جنت میں اعلی مقام حاصل کر
سکتے ہیں ۔ انکی ذات آئینہ ہے اللہ تعالیٰ کے
احکام کی ۔ یہ فانی دنیا ہے اس کے لئے
ہم کتنا کچھ جمع کرتے ہیں ۔ لیکن ہمارے
ساتھ صرف ہمارے اخلاق و کردار
دین اسلام کی تبلیغ اور دعوت
نماز اور احکام شریعت کی پابندی کرنا
ہی جائے گا ۔۔ اور ہم دنیا میں آخرت کا
امتحان پاس کرنے آئے ہیں ۔ دنیا کمانے نہیں
پھر اس نے ایک حدیث پڑھی تھی
تم علم اس لیے نہ سیکھو ،کہ مجمعے میں تم دوسرے علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لئے سیکھو، اور نہ ہی علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ بناؤ جس نے بھی ایسا کیا تو اس کے لئے آگ ہے آگ
مفہومہ فرمان رسول اللہ
(سنن ابن ماجه:254(صحيح ابن ماجه :208) ، ، صحيح ابن حبان : 77 ، ،صحيح الموارد :76(صحيح لغيره) ، ، صحيح الجامع:7370 ، ،صحيح الترغيب :107
طویل محفل اور درس کے اختتام پر حاضرین نےاٹھ کر اس کم عمر لڑکے کو اسکی دینی معلومات اور دین سے محبت پر مبارکباد پیش کی میزبان صاحب کو بھی مبارک باد پیش کی گئی ۔۔ احمر کے سامنے نذرانوں کی رقم کا ڈھیر لگا ہوا تھا جو نعت رسول کے اشعار کی پسندیدگی کی وجہ سے مہمانوں نے پیش کیے تھے ۔۔
کھانے کے بعد واپسی پر انہوں نے اپنے کارڈ لوگوں میں تقسیم کیے جو انہیں اپنے گھر کی محفلوں میں مدعو کرنا چاہتے تھے ۔۔
میزبان صاحب سے اپنی فیس ۔ مبلغ دس ہزار وصول کرنے کے بعد کچھ کھانا بھی پیک کرا کر دونوں وہاں سے نکل آئے تھے ۔
بیٹا ۔۔ میری بات سنیں ” پشت سے ایک بزرگ کی آواز سن کر احمر نے مڑ کر دیکھا”
ایک شخص انکی جانب آیا اور نہایت ہی پیار سے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا
اس جمعرات کو میرے گھر کی محفل کے لیے وقت نکال سکیں گے ؟؟ ” دونوں نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور اس شخص کو غور سے دیکھا جو حلیے سے متوسط طبقے کا معلوم ہو رہا تھا
” مجھ کو بہت افسوس ہے جناب ۔ آپ کو مایوس کرتے ہوئے اصل میں اس جمعرات کو ہم نے پہلے ہی وقت دے رکھا ہے کسی کو ”
بوڑھے کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی تھی اور وہ مسکرا کر کوئی بات نہیں کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا ۔
” یار تو نے منع کر دیا اسے ؟ ” عاشر نے پوچھا
ہاں۔” احمر نے مختصر جواب دے کر قدم آگے بڑھا دیئے تھے ۔”
جمعرات کی رات کو ساحل سمندر پر اپنے یو ٹیوب چینل کے . تیس ہزار سبسکرائبر مکمل ہونے کی خوشی منانے میں مصروف عاشر اور احمر اپنے دوستوں کے ساتھ ۔۔ بیئر اور سگریٹ نوشی کے ساتھ کے ایف سی کے برگر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ۔۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے
” احمر تو نے یوٹیوب کے زریعے پیسے کمانے کا آئیڈیا کیا کمال کا دیا تھا ۔۔ لوگ خود نماز تک نہ پڑھتے ہوں دین کا چینل سبسکرائب کر کے سمجھتے ہیں انکا دین مکمل ہو گیا ہے ۔”
عاشر کے چھوٹے بھائی سعد نے قہقہہ لگایا
” ہاں یار یہ تو ہے اس معاملے میں احمر نے بڑی ذہانت کاثبوت دیا ہے ۔ ”
” ارے یار ذہانت کیا۔ ریکارڈ بیان بلو ٹوتھ ہینڈ فری اور اللہ ہی اللہ “
احمر نے جھومتے ہوئے بے ہنگم انداز میں کہا۔
ختم شد
افشین نسیم
کراچی پاکستان
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


