حسن سے بھری جھیلوں کا جہاں۔۔۔۔ چکوال
از قلم: ایمن ریاض

پاکستان کی سرزمین تو ویسے ہی قدیم اسراروں سے بھری پڑی ہے۔قدرتی حسن اور معدنیات سے مالا مال یہ ملک اپنی مثال آپ ہے۔پاکستان کا شہر کراچی یو یا اسلام آباد، پشاور ہو یا کوئٹہ سب ہی اپنے بےمثال حسن کی وجہ سے دنیا والوں کی آنکھیں خیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے ہی پاکستان کا ایک شہر چکوال ہے ۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ایک ایسا ضلع جس کا نمک پورا پاکستان استعمال کرتا ہے۔ یہ شہر کتنا پرانا ہے ؟اس سوال کا جواب اب تک نہیں مل سکا۔یہ شہر اپنے اندر کئی زمانے سوئے ہوئے ہے۔ایک روایت کے مطابق چکوال شہر پانچ ہزار سال پرانا شہر ہے۔یہ شہر جتنا قدیم ہے ورثے اور خوب صورتی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ چکوال شہر کی خوب صورتی کا اندازہ آپ ظہیر الدین بابر کی اس بات سے لگا سکتے ہیں
عظیم مغل بادشاہ کہتا ہے کہ:
“کہ مجھے تو یہ شہر کشمیر کا بچہ لگتا ہے”.
چکوال کا نام میر منہاس راجپوت کے قبیلے کے سردار “چاقو خان’ کے نام پر رکھا گیا۔چکوال کو “1985” میں ضلع کا درجہ دیا گیا ۔اس سے پہلےدور برطانیہ میں چکوال جہلم کی تحصیل تھا۔ قیام پاکستان کے وقت یہاں قیام پذیر بہت سے ہندو اور سکھ ہجرت کر کے بھارت چلے گئے۔
یہ ضلع پانچ اضلاع یعنی جہلم، روالپنڈی،اٹک، میانوالی اور خوشاب کے درمیان قدرتی حسن سے لبریز ایک ضلع ہے۔اس کا کل رقبہ” 6524مربع کلومیٹر “ہے۔اس وقت ضلع کی کل آبادی “1495982” ہے۔یہ پانچ تحصیلوں چکوال، کلر کہار،چوآ سیدن شاہ،تلہ گنگ اور لاوہ پر مشتمل ہے۔ یہ دیہی طرز کا علاقہ ہے جو” 420″ دیہات پر مشتمل ہے۔اس علاقے میں کئی پرانی تہذیبیں اپنے راز چھپائے دفن ہیں۔ ہندوؤں کا سب سے زیادہ مقدس مندر”سب کا مندر” بھی چکوال ( کٹاس راج)میں ہی واقع ہے.۔
کلر کہار چکوال کا خوب صورت ترین علاقہ ہے۔یہ تخت بابری کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔کابل سے دہلی جاتے وقت بابر یہاں قیام کیا کرتا تھا۔
بھارت کے سابق صدر” من موہن سنگھ” کا تعلق بھی چکوال سے تھا۔
دنیا کا سب سے پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ بھی چکوال کے بن امیر نامی جنگل سے دریافت ہوا تھا۔
ضلع چکوال میں ایسے پتھر کے اوزار بھی ملے ہیں جن کی عمر تقریباً سات ہزار سال قبل مسیح بنتی ہے۔ (theory of Regionalism) کے مطابق انسان کا ظہور بھی اسی علاقے میں ہوا تھا۔
اس علاقے کو مارشل ایریا بھی کہا جاتا ہے۔چکوال کے بارے میں مشہور ہے کہ “یہاں کا ہر دوسرا بندہ فوجی اور تیسرا شاعر ہے”
اس مٹی نے وہ عظیم سپوت پیدا کئیے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
کلر کہار، چوآ سیدن شاہ،قلعہ کٹاس راج، کھنڈوا لیک یا سویک لیک، نیشنل پارک، دھرابی لیک، کوٹ راجہ ڈیم، کھائی ڈیم یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات ہیں۔
ہندوؤں کے کئی مندروں کا یہاں آج بھی بسیرا ہے۔ ملکانہ، بھون اور تلہ گنگ میں قدیم مندر محو استراحت ہیں۔
چکوال اعلیٰ نسل کے گھوڑوں اور بیلوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہ ضلع پاکستانی نقشے میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ضلع کو “حسن سے بھری جھیلوں کا جہاں کہا جاتا ہے “
یہاں کے لوگوں میں ثقافت کی گہری تمیز ہے۔ ماضی یہاں سارا سال کوئی نہ کوئی میلہ لگا رہتا تھا۔
چکوال کے علاقے تلہ گنگ کی انڈسٹری میں بننے والے جوتے کی مانگ دنیا بھر میں ہے۔ معدنیات سے مالا مال ہے یہ پوٹھوار کی سرزمین نمک، کوئلہ، ماربل، پٹرولیم اور لوہے کے ذخائر سے بھری پڑی ہے۔یہاں کی مشہور سوغات “ریوڑی” یے۔ یہاں کی زبان “پنجابی” ہے یہاں شاہ پوری اور جٹکی پنجابی بولی جاتی ہے۔یہاں کے لوگ دلیر اور سخت جان ہیں۔خاندانوں اور ذاتوں کا اثر چکوال میں اب بھی بہت ہے۔ چودھری ، آواں اور راجپوت اب تک اس خطے کے نمایاں خاندان بنے ہوئے ہیں۔ راجپوت کو ایک بہت ہی معزز کاسٹ سمجھا جاتا ہے۔ذاتوں کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ لوگ اپنی ذات میں ہی شادی کو ترجیح دیتے ہیں۔
چکوال کو غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین کے علاؤہ اولیاء کرام کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔یہاں ضرب المثل ہے کہ”دھن پیر فقیر دی رن”یعنی اس علاقے میں پیر فقیر زیادہ ہیں اور جتنی خانقاہیں،مزار یہاں ہیں شاید ہی کہیں ہوں۔
یہ شہر اللہ کی طرف سے ایک انعام ہے جس میں آپ کو رنگا رنگ تہذیبوں کے آثار ملیں گے, ثقافتی رنگ میں رنگے لوگ ملیں گے اور مٹھاس بانٹتی ریوڑیاں ملیں گی۔اس خطے کا گلاب پانی بھی بہت مشہور ہے۔ جو لوگ شہروں میں رہتے ہیں وہ اس خطے میں اپنے دیہاتوں سے سرسوں کا تیل اور گندم لاتے ہیں۔
یہ شہر جو کہ ہزاروں سال پرانا اور ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے ایک شاہکار ہے۔ دُنیا کی نظر میں گم نام ہے۔ یہ شہیدوں ، غازیوں اور شاعروں کی سرزمین بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ سیاحتی مقامات میں غنی ہونے کے باوجود یہ شہر مالی وسائل میں قلت کا شکار ہے۔
سب سے زیادہ جھیلوں اور کنوؤں کی سرزمین کے فرزند پانی کی بوند بوند کے لیے محو تماشہ ہیں۔ مگر جیسے یہ سرزمین باقی دنیا والوں کے لیے گم نام ہے ،شاید ویسے ہی ہمارے حکمرانوں کے لیے بھی گمشدہ حصہ ہے جس کی طرف کوئی توجہ دینے کا حامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر بہت سی تاریخی اہمیت کی حامل عمارتیں زمیں بوس ہوتی جا رہی ہیں یا تخت بابری کی طرح اپنی پہچان کھوئے چلی جا رہی ہیں۔
چکوال کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں پر دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان موجود ہے۔کروڑوں سال پرانی نمک کی کان جو کہ کیمبرین عہد سے وابستہ ہے اس کی لمبائی تین سو کلومیٹر اور چوڑائی آٹھ سو تیس کلومیٹر تک ہے۔یہ بائیس سو فٹ سے 4990فٹ تک اونچا نمک کا ایک عظیم ذخیرہ ہے ۔جہاں 12 کروڑ 13 لاکھ ٹن کے ذخائر موجود ہیں۔
اس جگہ پر 20 لاکھ روپے کی لاگت سے میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو دوسرے بہت سے وعدوں کی طرح حکمرانوں کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ پر حکمران تو حکمران عوام بھی اس عظیم اور ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والے پوٹھوہار کی اس سرزمین کے مسائل تو کیا نام تک یاد رکھنے کے روادار نہیں۔
یہاں پر دریافت ہونے والے فوسلز دو کروڑ بیس لاکھ سال پرانے ہیں۔ ضلع چکوال پر اگر مزید تحقیق کی جائے تو کئی گم گشتہ خزانوں کی تصدیق ہو سکتی ہے۔یہاں پرانی تہذیب کے ایسے آثار قدیمہ ملیں گے جو اب تک پوری دنیا میں نہیں ہیں۔یہ علاقہ پاکستان کے لیے کسی ہفت اقلیم کی دولت سے کم نہیں۔اگر اس علاقے پر مزید تحقیق کی جائے تو ایسے ایسے شاہکار سامنے آئیں گے جس سے دنیا بھر کی نظریں پاکستان کی طرف متوجہ ہو سکتی ہیں۔
تحقیق و تحریر: ایمن ریاض
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


