ِ رائٹر اکاؤنٹ بنائیے
  ِاپنی تحریر پوسٹ کیجئے
  مفت ناول ڈاؤن لوڈ کیجئے
ِ آن لائن شاپ / کتاب آرڈر کیجئے  
       
       
  قسط وار ناول پڑھئے
  بچوں کی کہانیاں پڑھئے
  بلاگ بنانا سیکھئے
ِدیگر اہم اصناف  
       

قارئین کی پسندیدہ کیٹگریز

              

Novel Review & Video Summary: Begal Mission

Kitab Dost Novel Reviews is a unique way to elaborate and summarize Novel content in a different way to those who couldn’t read the novel because of any reason and the kids are living outside Pakistan where the novels are not available or they don’t have time to read such long novels. Here is the summary of this novel that is easy to understand the whole novel without reading it fully. How is this, Let me know by comments or email. Thanks 

Kitab Dost Rating: (KDR) for Begal Missoin: 9.5/10 ★★★★★★★★★★

begal mission

ناول کا نام: بیگال مشن

مصنف : اشتیاق احمد [چودہواں خاص نمبر – سنِ اشاعت: 1986]
کل صفحات: 860

  ★★★★★★★★★ 9.5/10 :کتاب دوست ریویو ریٹنگ

یہ ناول اشتیاق احمد کے ٹاپ ناولوں میں شامل ہے۔ اس کی کہانی، پلاٹ، تیزی، سسپنس اور سنسنی خیزی اپنے عروج پر ہے۔ ایکشن سے بھرپور ناول ہے اور ذہانت کا استعمال تو اشتیاق احمد کے کرداروں کا طرہ امتیاز ہے ہی۔ خاص طور پر فرزانہ، فرحت اور مکھن وغیرہ جو ترکیبیں بتانے کے ماہر ہیں۔

After a great response for Summary Video of Batil Qayamat, Now 2nd video is live

Watch “Begal Mission”

Kitab Dost presenting

Novel Khas Number Summary in a Video format

Ishtiaq Ahmed Novels video Summary for the first time on the internet

written by Ishtiaq Ahmed.

Summarized, designed & Video Editing by Shahzad Bashir

Download full novel : Begal Mission

بیگال مشن کتابی شکل میں پڑھنے کیلئے ابھی گھر بیٹھے منگوائیے

بیگال مشن دستیاب ہے کتاب دوست اسٹور پر ابھی آرڈر کیجئے۔ 

ORDER NOW 

 

Referred Novels Links:

آپ کے خیال میں ناول کی ریٹنگ کیا ہے؟
خلاصہ کی آخر میں اپناووٹ دیجئے۔please cast your vote for the novel rating in the end.

ناول کا خلاصہ
اشتیاق احمد کے ایک مِنی خاص نمبر “پرخوف فتنہ” (گیارہواں خاص نمبر) میں بیگال کی جانب سے پاک لینڈ کے ایٹمی پلانٹ کو اڑانے کی سازش کی گئی تھی جس کو انسپکٹر جمشید کی ٹیم نے ناکام بنا دیا تھا۔ اور اس ناول کے اختتام پر انسپکٹر جمشید صدر مملکت سے اجازت لیتے ہیں کہ اب وہ بیگال کا ایٹمی پلانٹ اڑانے جائیں گے۔ اور ان کو یہ اجازت دے دی جاتی ہے۔ مگر اس اجازت کے ملتے ہی تین ممالک کی فوجیں ان کی سرحد پر جمع ہو جاتی ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ لوگ بیگال کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کریں۔




purkhauf fitna novel by ishtiaq ahmed

 اشتیاق احمد کا ناول پرخوف فتنہ پڑھئے

Download “Pur Khauf Fitna” by Ishtiaq Ahmed

 

شیلاک کا فرار

ناول کے آغاز میں محمود فاروق فرزانہ خان رحمان اور پروفیسر داؤد ایک تقریب میں شریک تھے وہاں ان کے میزبان نے یہ دعوت اپنے دو مہمان بہن بھائیوں کے اعزاز میں دی تھی۔ فرزانہ تقریب کی مہمان لڑکی کو دیکھ کر چونک جاتی ہے اور اپنی ذہانت سےآٹو گراف لینے کے بہانے یہ پتہ چلا لیتی ہے کہ وہ دراصل ایک بین الاقوامی مجرمہ “ریوٹا” ہے جو ایک اور مجرم “شیلاک” کو جیل سے فرار کروانے آئی ہے۔

غلط آدمی

انسپکٹر جمشید کے محکمہ سراغرسانی میں ایک ارجنٹ خفیہ میٹنگ بلائی جاتی ہے جس میں صدر مملکت کا ایک خاص آدمی شریک ہوتا ہے۔ وہ بولتا ہے کہ انسپکٹر جمشید کو بیگال کی ایٹمی تنصیبات اڑانے کی اجازت دیتے ہی تین ممالک کی فوجیں حملہ کرنے کیلئے تیار ہو گئی ہیں لہٰذا اب انسپکٹر جمشید ایسا کوئی قدم بھی نہیں اٹھائیں گے اور یہ حکم سنا کر وہ جانےلگتا ہے تو انسپکٹر جمشید اس سے بولتے ہیں کہ وہ اپنی شناخت کروائے۔ وہ بولتا ہے کہ تمھاری ہمت کیسے ہوئی میں صدر کا خاص آدمی ہوں۔ آئی جی ، ڈی آئی جی وغیرہ بھی انسپکٹر جمشید کو سمجھاتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ نہیں جب تک شناخت نہی ہوتی یہ نہیں جاسکتے۔
اب وہ خاص کارکن انسپکٹر جمشید کو مکہ مار دیتا ہے اور فرار ہو جاتا ہے۔ انسپکٹر جمشید بھی اس کے پیچھے جاتے ہیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ جعلی آدمی تھا اور اصل آدمی کو قتل کر کے اس کی جگہ لے کر آیا تھا اور اب وہ محکمہ سراغرسانی کی عمارت کی بھی تصاویر لے گیا ہے۔

نیلی کار کا تعاقب

ادھر شیلاک اور ریوٹا بھی محمود فاروق فرزانہ کو پہچان جاتے ہیں اور انکی جھڑپ ہو جاتی ہے۔ مگر ریوٹا ایک گیس گیند کے ذریعے ان سب کو بے ہوش کر دیتی ہے اور وہ دونوں فرار ہو جاتے ہیں۔ سب انسپکٹر اکرام یہاں پہنچ جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ایک مرد اور ایک لڑکی دیوار پھلانگ کر ایک نیلی کار میں فرار ہو رہے ہیں۔ وہ تعاقب کرتا ہے مگر وہ نکل جاتے ہیں ان کا رخ شمالی سڑک کی جانب ہوتا ہے۔
وہ واپس محمود فاروق فرزانہ کی طرف آجاتا ہے ۔ہوش میں آنے پر جب یہ تحقیقات کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ریوٹا ہی تھی اور وہ شیلاک کو جیل سے نکالنے آئی تھی اور نکال کر لے گئی۔ اب یہ سب شمالی سڑک کا رخ کرتے ہیں تاکہ دونوں کو فرار ہونے سے روکا جائے۔ راستے میں انسپکٹر جمشید تھوڑی دیر کیلئے کچھ لینے گھر جاتے ہیں اور پھر یہ سب خان رحمان کی کار میں اس نیلی کار کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں جو شمالی سڑک پر گئی تھی۔ وہاں انھیں وہ کار ایک کھڈ میں تباہ پڑی نظر آتی ہے مگر یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ دھوکا ہے۔ اور اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ 

khoon ka hangama novel by ishtiaq ahmed

خون کا ہنگامہ ۔ (انسپکٹر کامران مرزا سیریز) ریوٹا سے پہلا ٹکراؤ پڑھئے

Download “Khoon Ka Hangama” by Ishtiaq Ahmed

insharja ka jasoos novel ishtiaq ahmed

انشارجہ کا جاسوس۔(انسپکٹر جمشید سیریز) شیلاک سے پہلا ٹکراؤ پڑھئے

Download “Insharja Ka Jasoos” by Ishtiaq Ahmed




انعامی ناشتا

دوسری طرف فرحت کی فرمائش پر انسپکٹر کامران مرزا پکنک کی درخواست قبول کر لیتے ہیں اور قدرتی انداز کی پکنک کیلئے یعنی بِنا کچھ سامان لیئے گھر سے نکل پڑتے ہیں۔ یہ شہر سے باہر نکل جاتے ہیں اور پھر ناشتا کرنے کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں جا بیٹھتے ہیں۔

★★★★★★

انھیں ہوٹل کے باہر ایک سرخ رنگ کی گرد آلود کار نظر آتی ہے جو شاید دور سے سفر کرکے آئی تھی۔ یہ ناشتے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں مگر وہاں ناشتے سے پہلے ایک مقابلہ کرایا جاتا ہے اور جیتنے والے کو مفت ناشتا دیا جاتا ہے۔ کانگو نامی پہلوان ایک شخص سے ہاتھ ملاتا ہے اور وہ شخص ہار جاتا ہے۔ اب ایک نوجوان اٹھتا ہے اور بولتا ہے میں مقابلہ کروں گا لیکن اس کے ساتھ ایک لڑکی ہو تی ہے وہ کہتی ہے کانگو سے میں مقابلہ کروں گی۔ کانگو پہلوان اس سے مقابلہ کرتا ہے  مگر ہار جاتا ہے اس کے بعد انسپکٹر کامران مرزا فرحت سے اس لڑکی کا مقابلہ کراتے ہیں مگر دونوں میں سے کوئی نہیں ہارتی اور برابر رہتی ہیں اب انسپکٹر کامران مرزا اور اس آدمی سے مقابلہ کرتے ہیں جو اس لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے اس کا نام ٹام تھا۔ وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے نہیں جیت پاتے

★★★★★★

اب انسپکٹر کامران مرزا ریوٹا کو پہچان جاتے ہیں اور ان دونوں کے تعاقب کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔ یہ تعاقب میں ہوتے ہیں مگر وہ دونوں انھیں غچہ دے کر نکل جاتے ہیں۔ وہ اب دراصل شوکی برادرز کے شہر میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ انسپکٹر کامران مرزا تو آئی جی کے دفتر چلے جاتے ہیں اور آفتاب آصف فرحت شوکی برادرز سے ملنے ان کے گھر جاتے ہیں مگر انھیں بتایا جاتا ہے کہ وہ کسی آدمی کے ساتھ کہیں گئے ہیں۔ یہ واپس آئی جی کے دفتر جاتے ہیں تو انھیں انسپکٹر کامران مرزا ایک ہسپتال میں بلوالیتے ہیں جہاں ایک مرد اور عورت کی کار کو حادثہ پیش آیا ہوتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ریوٹا اور شیلاک ہیں مگر وہ ان کے میک اپ میں کوئی عام سے لوگ ہوتے ہیں۔
ریوٹا کا فون آتا ہے اور وہ ہنستے ہوئے کہتی ہے کہ ہم اسی شہر میں ہیں پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو۔

ہم بے چارے

شوکی برادرز اپنے دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں اور آفتاب کہتا ہے کہ میرے دل کا بایاں حصہ دھڑک رہا ہے یہ اس پر بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک شخص کا فون آتا ہے وہ ان کو اس شرط کے ساتھ ہوٹل گلریز بلاتا ہے کہ کسی کو بھی بتا کر نہیں جائیں گے۔ یہ جانے لگتے ہیں تو ان کا چپراسی ارشک کہتا ہے کہ مجھے تو بتا دیں مگر یہ منع کر دیتے ہیں۔ یہ ہوٹل پہنچ جاتے ہیں۔

★★★★★★

یہاں ان کی ملاقات کیپٹن شومی سے ہوتی ہے جو ایک مال بردار بحری جہاز کا کیپٹن تھا۔ وہ ان کو بولتاہے کہ میرے جہاز پر کچھ گڑ بڑ ہے اور آپ کو اس کا پتہ لگانا ہے۔ مگر میرا مسلسل تعاقب کیا جاتا ہے اور تعاقب کرنے والے اس وقت بھی ہوٹل میں موجود ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر میں کسی سے ملا تو اس کو بھی مار ڈالیں گے۔
پھر بھی وہ ان سے کہتا ہے کہ میرے ساتھ میرے جہاز پر چلو اور گڑ بڑ کا پتہ لگاؤ۔ یہ جہاز افریقہ جانے والا ہوتا ہے اور اس پر چاول لدے ہوتے ہیں۔ اب یہ کسی کو اطلاع بھی نہیں دے سکتے اور افریقہ والے جہاز پر ان کو سوار ہونا ہوتاہے۔ یہ پورٹ پر پہنچتے ہیں تو وہاں انسپکٹر کاشان سے ملاقات ہوتی ہے جو کسی کام سے آیا ہوتا ہے۔ یہ اس کو کچھ بھی نہیں بتا پاتے کیونکہ ان کی نگرانی ہو ری ہوتی ہے۔

★★★★★★

اب ان کو جہاز پر سوار کروا دیا جاتا ہے۔ جہاز کو نیلے لباس والوں نے گھیرا ہوا ہوتا ہے، جہاز پر کیپٹن کا نائب امیر رانا ان کو پہچان جاتا ہے۔ اسی وقت جہاز پر ایک مرد اور ایک عورت بھی عربی لباس میں آ جاتے ہیں۔ وہاں ایک نیلے لباس والا مسٹر کوبرا ہوتا ہے۔ وہ ان سے دھمکی دیتا ہے۔ یہ تفتیش کرتے ہوئے کچن میں چلے جاتے ہیں وہاں انھیں پتہ چلتا ہے کہ مسافروں کے کھانے میں زہر ملا دیا گیا تھا۔ یہ سارا کھانا سمندر میں پھنکوا دیتے ہیں اور دوبارا کھانا بنانے کے لیئےجب گودام میں جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں نیلے لباس والوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس دوران انھیں پتہ چل جاتا ہے کہ جہاز میں ٹائم بم فٹ کر دیا گیا ہے اور کسی بھی گڑ بڑ کی صور ت جہاز کو اڑا دیا جائے گا۔ 

نیلی کار

ادھر ان کا چپراسی ان کا تعاقب کر کے سی پورٹ پر انسپکٹر کاشان کو لے کر پہنچ جاتا ہے اسےجہاز کی معلومات مل جاتی ہیں اور شوکی کا گرایا ہوا ایک کاغذ کا ٹکڑا جس میں اس نے جہاز کے بارے میں لکھا ہوتا ہے۔ یہاں سے یہ خبر انسپکٹر کامرا مرزا کو مل جاتی ہے۔ وہ میک اپ میں جہاز پر سوار ہو جاتے ہیں۔ انسپکٹر کامرا مرزا کچھ دیکھ کر ایک دم فکر مند ہو جاتے ہیں۔

ادھر تینوں بیگمات ایک جگہ جمع ہونے کا پروگرام بناتی ہیں اورجب بیگم جمشید گھر سے نکلتی ہیں تو ان کا تعاقب شروع ہو جاتا ہے۔
۔

فائر اور چیخ

ادھر جہاز کےگودام پر نیلے لباس والے قابض ہو جاتےہیں اور وہ کھانے کے لئے کوئی بھی چیز دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ نیلے لباس والوں کا باس “ٹو مین” ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارا تعلق بیگال سے ہے اور یہ جہاز بیگال لے جایا جا رہا ہے۔ وہ بولتا ہے کہ اس جہاز میں چاول کی بوریوں میں اس ملک کا سونا چوری کر کے لے جایاجا رہا ہے اور اب ہم تمہارے ملک کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے تباہ کردیں گے۔وہ بتاتا ہے کہ تمہارے ملک میں ہماری ایک حامی جماعت ہے وہ مدد کرتی ہے اور اس کا اشارہ جابانی فتنے کی طرف ہوتا ہے۔
اب ان کی سٹی گم ہو جاتی ہے کہ نہ صرف جہاز بلکہ پورا سونے سے لدا جہاز بیگال پہنچ گیا تو کیا ہوگا۔ ٹو مین کے تمام ساتھی پورے جہاز پر اہم پوزیشنز پر چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ اچانک ایک فائر کہیں سے ہوتا ہے اور جہاز کا عملہ کا ایک آدمی مارا جاتا ہے۔ ٹومین کہتا ہے تم سب نشانے پر ہو۔ 

جہاز پر قتل

انسپکٹر کامران مرزا کو جہاز پر ایک مشکوک نیلے لباس والا نظر آتاہے۔ وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں کہ جہاز پر گڑبڑ ہے۔
ادھر ٹومین کیپٹن شومی کو ایک گھنٹے کی مہلت دیتا ہے کہ جہاز کا کنٹرول میرے حوالے کردو ورنہ ڈائنامائیٹ سے اڑا دیا جائے گا اور سب مارے جائیں گے۔ شوکی وغیرہ سے مشورے کے بعد جہاز کا کنٹرول ٹومین کو دے دیا جاتا ہے۔ اب شوکی کیپٹن شومی سے ملتا ہے اور اس کو اپنا پلان بتاتا ہے۔ ۔

نوٹ بک

اب شوکی کی مدد سے جہاز کا کیپٹن اور نائب کیپٹن دوبارہ کنٹرول روم پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ اس جھڑپ کے دوران ان کے ہاتھ ایک نوٹ بک لگتی ہے جو کسی غدار نے ان کے دشمنوں تک پہنچائی تھی اور اس میں اہم ملکی راز تھے۔ اچانک انکشاف ہوتا ہے کہ جہاز کا کنٹرول خود کار طریقے سے جہاز کو بیگال کی طر لے جا رہا ہے اور اس کو روکا یا رخ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس دوران شوکی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے کیونکہ نوٹ بک اب اسکی جیب میں نہیں تھی۔

ایک نال اور سہی

انسپکٹر کامران مرزا جہاز کا جائزہ لے کر آتے ہیں تو آفتاب غائب ہوتا ہے۔ وہ تشویش سے بتاتے ہیں کہ جہاز اس وقت نیلے لباس والوں کے قبضے میں ہے۔ اور وہ ایسے جگہوں پر پوزیشنز لیے ہوئے ہیں جہاں سے کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اسی وقت آفتاب وہاں آجاتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس نے شوکی برادرز کو دیکھ لیا ہے اور انھوں نے انجن روم پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ بات ا بھی نیلے لباس والوں کو معلوم نہیں۔ ساتھ ہی وہ بتاتاہے کہ ایک دشمن نوٹنگ کے پاس سے شوکی برادرز نے ایک بہت ہی اہم نوٹ بک بھی برآمد کروا لی ہے۔

فرحت بھانپ جاتی ہے اور بولتی ہے کہ نکالو وہ نوٹ بک۔ وہ سمجھ جاتی ہے آفتاب شوکی سے اڑا لایا ہے۔ اب وہ جب نوٹ بک نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو دھک سے رہ جاتا ہے کیونکہ نوٹ بک اس کی جیب سے بھی کسی نے اڑا لی تھی۔
اب انھیں جہاز میں چھپایا گیا ٹائم بم تلاش کرناتھا۔ یہ تینوں بم کی تلاش میں نکلتے ہیں اور ایک جگہ ان کی نیلے لباس والوں سے جھڑپ ہو جاتی ہے۔ یہ دشمن کو بے ہوش کر کے نیچے اسٹور روم پہنچ جاتے ہیں وہاں ان سے پہلے کوئی چھپا ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو بھی چھپا ہے سامنے آئے۔

★★★★★★

اب جو سامنے آتے ہیں تو یہ تینوں اچھل پڑتے ہیں کیونکہ وہ محمود فاروق اور فرزانہ ہوتے ہیں۔ اچانک وہاں ایک دشمن آجاتا ہے۔ ان کی جھڑپ کے دوران گولی چل جاتی ہے۔ یہ سب اسٹور روم میں گھس جاتے ہیں اور وہاں دشمن آجاتے ہیں۔ یہ باہر نہیں آتے تو دشمن باہر سے تالا لگا کر چلے جاتے ہیں۔ اب یہ سب اسٹور میں بند ہو جاتے ہیں۔ اچانک وہاں چھپتے چھپاتے شوکی برادرز آ جاتے ہیں اور ان کو آزاد کروادیتے ہیں۔ اب وہاں بڑی پارٹی بھی آجاتی ہے۔ اس کے بعد فرزانہ اور فرحت کی مدد سے یہ بم کا پتہ چلا لیتے ہیں جو ایک بڑی سی پیٹی میں چھپایا گیا تھا۔ ابھی پروفیسر داؤد بم کو ناکارہ کر رہے ہوتے ہیں کہ چار دشمن آجاتے ہیں۔

وہاں ان کی خطرناک جھڑپ ہوتی ہے۔ محمود بم لے کر نکل جاتا ہے مگر اس کی ٹو مین سے جھڑپ ہو جاتی ہے جو اس کو بے ہوش کر دیتا ہے۔ مگر پتہ چلتا ہے کہ بم وہاں سے بھی غائب ہے۔ ٹو مین ان سب تک پہنچ جاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ بم کہاں ہے۔ انسپکٹر کامران مرزا اس پر فائر کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ بلٹ پروف لباس میں ہے۔

ساتھ ہی ان پر انکشاف ہو تا ہے کہ ٹو میں دراصل “رونل”تھا۔ جو ایک اور بین الاقوامی مجرم تھا۔

pistol wala novel - ishtiaq ahmed

رونل” سے پہلا ٹکراؤ” 

اشتیاق احمد کا ناول پستول والا پڑھئے

Download “Pistol Wala” by Ishtiaq Ahmed




ڈاکوؤں کا جزیرہ

اس کا پلان سونا کسی جزیرے پر اتار کر جہاز کو تباہ کرنے کا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بم سمندر میں پھینک دیا اب رونل کے پاس شیلاک اور ریوٹا بھی پہنچ جاتے ہیں۔
اب پورے جہاز پر ان مجرموں کا قبضہ ہوتا ہے۔ وہ ان سب کو نشانے پر لے لیتے ہیں۔ اور ان سب کو ایک بنڈل کی صورت میں باندھ دیتے ہیں۔ اور خود سارا سونا ایک جزیرے پر اتارنے لگ جاتے ہیں۔ یہ سب کسی نہ کسی طرح خود کو آزاد کروا لیتے ہیں۔ اب جہاز ان کے قبضے میں آجاتا ہے۔ اور دشمن جزیرے سے جب واپس جہاز پر آتے ہیں تو جہاز پر دونوں پارٹیوں کا قبضہ ہوتا ہے۔ اب یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ جزیرے پر اتر کر آپس میں مقابلہ کیا جائے۔ رونل شیلاک اور ریوٹا بولتے ہیں ٹھیک ہے۔ مگر یہ تینوں شاطر دشمن چال چل جاتے ہیں اور ان کو جزیرے پر چھوڑ کر دھوکے سے جہاز لے کر فرار ہو جاتےہیں

★★★★★★

 
اب یہ سب جزیرے پر پھنس جاتے ہیں۔ مگر پھر ایک مسافر جہاز قریب سے گزرتا ہے تو یہ اس پر کسی نہ کسی طرح سوار ہو جاتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کا جہاز ہوتا ہے اور افریقہ جا رہا تھا۔ اس پر ایک قیدی بھی ہوتا ہے جو ایک جزیرے سے اس جہاز نے اٹھایا ہوتا ہے۔ اور وہ قیدی کوئی اور نہیں، منور علی خان ہوتے ہیں۔
اچانک ان کے جہاز پر ایک بحری ڈاکوؤں کا حملہ ہو جاتا ہے۔ جہاز کا کپتان بولتا ہے کہ یہ سب منحوس ہیں ان کو سمندر میں پھینک دو۔ مگر یہ بولتے ہیں کہ ہم ان ڈاکوؤں سے کم اسلحے سے بھی لڑ سکتے ہیں اور پھر خان رحمان کی کمان میں یہ ڈاکوؤں کے جہاز کو تباہ کر دیتے ہیں اور کچھ ڈاکو ان کے قیدی بن جاتے ہیں۔ وہ قیدی یہودی ہوتے ہیں اور بیگال کے باشندے ہوتے ہیں۔ اب یہ پلان بناتے ہیں کہ ان قیدیوں کی مدد سے بیگال میں داخل ہوا جائے۔ وہ قیدی ان کو ڈاکوؤں کے جزیرے پر لے جاتے ہیں جہاں تمام ڈاکو لوٹا ہوا خزانہ رکھتے تھے۔ وہاں دشمن ان کو گھیر لیتے ہیں۔ وہاں وہ جہاز بھی ہوتا ہے جس پر سونا لدا ہوا تھا۔

سرخ کارکن

جب انسپکٹر جمشید ان ڈاکوؤں کو بتاتے ہیں کہ جہاز پر سونا لدا ہوا ہے تو وہ ڈاکو جہاز پر قبضے کیلئے آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ انسپکٹر جمشید اور کامران مرزا بھی جہاز پر چڑھنے لگتے ہیں اسی وقت ایک ڈاکو جہاز کا چپو انسپکٹر جمشید کے سر پر مار کر ان کو زخمی کر دیتا ہے مگر پھر انسپکٹر کامران مرزا کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ اب یہ جہاز پر قبضہ کر کے اس کا سونا جزیرے میں چھپا دیتے ہیں۔ وہاں ان کو بیگالی ڈاکوؤں کے کپڑے مل جاتے ہیں اور یہ بیگال میں داخل ہونے کی تیاری کرتے ہیں۔ یہ ڈاکوؤں کے میک اپ میں بیگال میں گھس جاتے ہیں۔ انسپکٹر جمشید کے زخم پر پٹی کروانے کیلئے انسپکٹر کامران مرزا ان کو ایک ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ سرخ کارکنوں کے کارڈ بھی لگ جاتے ہیں جن کی بیگال میں بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ابھی وہ پٹی کروا رہے ہوتے ہیں کہ ریڈیو پر اعلان کردیا جاتا ہے کہ غیر ملکی جاسوس بیگال میں  گھس آئے ہیں۔ ڈاکٹران کو پہچان جاتا ہے کہ یہ غیر ملکی جاسوس ہیں۔

 

سیاہ کیڑا

اب باقی لوگ جزیرے پر ہی ہوتے ہیں تو وہاں ان کو ایک کالے رنگ کا کیڑا نظر آتا ہے جس کو دیکھ کر منور علی خان حیران ہو جاتےہیں، وہ بولتے ہیں کہ یہ یہاں کیسے آگیا یہ تو ایک خاص جنگل میں ایک خاص درخت پر رہنے والا کیڑا ہے اور اس درخت سے الگ ہونے پر یہ مر جاتا ہے۔ وہ اس کیڑے کو مار دیتے ہیں۔ اب فاروق یہ سوال اٹھاتا ہے کہ یا تو ہم سب اس جزیرے پر ہیں جہاں یہ کیڑا پایا جاتا ہے یاپھر یہ ان لوگوں کے ساتھ آگیا جو رونل کے ساتھی تھے۔ ابھی یہ کیڑے پر بحث ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک اور لانچ جزیرے پر آجاتی ہے۔

★★★★★★

 

انسپکٹر جمشید اور کامران مرزا پھنس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کی اسسٹنٹ نے سرخ کارکنوں کو انکے بارے میں اطلاع دے دی۔ اب یہ کسی طرح وہاں سے فرار ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیکسی میں یہ ایک اسٹور سے کپڑے لے کر نکل جاتے ہیں۔ اب جگہ جگہ تلاشی ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ دوبارہ اسی ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اس کو اور اس کی اسسٹنٹ کو اغوا کر لیتے ہیں پھر ٹیکسی میں کسی طرح ساحل تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر یہ وہاں سے ایک لانچ کے ذریعے جزیرے تک جاتے ہیں تو وہاں ایک اور لانچ کھڑی نظر آتی ہے۔

ریوٹا کی موت

ادھر باقی سب کو جزیرے پر چار لانچوں کے ذریعے گھیر لیا جاتا ہے۔ دشمن ان کو وارننگ دیتے ہیں کہ گرفتاری دے دو ورنہ جزیرہ تباہ کر دیا جائے گا۔ اب خان رحمان ان سے جنگ کی تیاری کر لیتے ہیں۔ سب کو درختوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔ اچانک ایک لانچ سے ریوٹا اتر کر جزیرے پر آجاتی ہے۔ وہ قدموں کے نشان دیکھ کر سمجھ جاتی ہے کہ وہ یہیں ہیں۔
یہاں ایک جھڑپ کے نتیجے میں خان رحمان ریوٹا کو قابو کر لیتے ہیں اور دشمن کے اسلحہ پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ اچانک پانسہ پلٹ جاتا ہے اور دشمن حاوی ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ایکبار پھر فرزانہ کی ذہانت کام کر جاتی ہے۔ وہ چپکے سے لانچ پر جا کر دشمنوں کا اسلحہ اٹھا لاتی ہے اور دو دشمنوں کو اڑانے کے بعد سب دشمنوں کو گھیر لیا جاتا ہے۔
ایسے میں ریوٹا ساحل کی طرف بھاگ کھڑی ہوتی ہے خان رحمان اس پر فائر کرتے ہیں اور وہ ان کے ہاتھوں ماری جاتی ہے۔ اس ہنگامے میں ایک دشمن چار میں سے ایک لانچ لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ ۔

ایٹمی پلانٹ کی تلاش

ادھر انسپکٹر کامران مرزا اس لانچ کے دشمن کو اڑا دیتے ہیں اور یہ سب مل کر دوسرے جزیرے پر چلے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر فونڈا جس کو وہ اغوا کر لائے تھے ان کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوتا ہے۔
اب یہ بتاتے ہیں کہ ہم بیگال کا ایٹمی پلانٹ اڑانا چاہتے ہیں۔ وہ اچھل پڑتاہے لیکن وہ  بولتا ہے کہ شاید وزیرِ دفاع جانتا ہے کہ ایٹمی پلانٹ کہاں ہے اور کسی کہ اس کے بارے میں نہیں معلوم۔

★★★★★★





اب یہ پلان بناتے ہیں کہ وزیرِ دفاع تک پہنچا جائے۔ یہ وہاں سے ویران ساحل پر آتے ہیں اور پھر ایک بڑی گاڑی میں کسی
طرح لفٹ لے کر شہر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ گاڑی کے مالک کا نام لامے را ہو تا ہے وہ ان کو اپنے گھر لے جاتا ہے۔ یہ اپنی ذہانت اور منصوبہ بندی کے ذریعے کسی نہ کسی طرح وزیرِ دفاع کو جاسوسوں کی اطلاع دینے کے بہانے سے وہاں بلا لیتے ہیں اور پھر اغوا کر کے شہر سے باہر لے جاتے ہیں۔ اب یہ وزیرِ دفاع کلاشوف سے اگلواتے ہیں کہ ایٹمی پلانٹ کہاں ہے؟ مگر وہ نہیں بتاتا۔ آخر کار یہ اس کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

★★★★★★


اب یہ خود دماغ لڑاتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ جہاں سے بھی وہ کیڑا آیا تھا اسی علاقے میں ایٹمی پلانٹ ہے جہاں رونل اور شیلاک بھی ہیں کیونکہ وہ پھر نظر نہیں آئے۔ اب یہ اس علاقے کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ کسی طرح انھیں پروفیسر ٹوباک کا پتہ چل جاتا ہے جو ماہر حشرات الارض ہے وہ بتا سکتا ہے کہ وہ کیڑا کس علاقے میں پایا جاتا ہے۔انسپکٹر جمشید اور کامران مرزا اس کے گھر پہنچتے ہیں مگر یہاں ان کا تعاقب شروع ہو جاتا ہے۔ اور پھر ایک جگہ انھیں سرخ کارکن گرفتار کر لیتے ہیں۔ ۔

الٹا لٹکا دو

ادھر ان دونوں کے پیچھے محمود آصف شوکی اور خان رحمان جاتے ہیں اور پروفیسر ٹوباک کو سرخ کارکنوں کا کارڈ دکھا کر سیاہ کیڑوں کی وادی کا پتہ معلوم کر لیتے ہیں لیکن اچانک ریڈیو پر انسپکٹر جمشید اور انسپکٹر کامران مرزا کی گرفتاری کی خبرآجاتی ہے اور پروفیسر ٹوباک سمجھ جاتا ہے کہ یہ بھی ان کےہی ساتھی ہیں۔ یہ پروفیسر کو ہلاک کر کے نکل جاتے ہیں۔

★★★★★★


اب یہ تینوں ایک منصوبہ بناتے ہیں اور خان رحمان کو واپس بھیج کر خود پولیس کی گاڑیوں کے ذریعے سرخ کارکنوں کے
ہیڈ کوارٹر پہنچ جاتے ہیں جہاں دونوں انسپکٹرز کو رکھا گیا تھا۔ اب محمود ان تک پہنچنے کیلئے گرفتاری دے دیتا ہے جبکہ آصف اور شوکی چھپ جاتے ہیں۔ اب جب محمود اس جگہ لے جایا جاتا ہے تو ہولناک منظر دیکھتا ہے کہ انسپکٹر جمشید اور انسپکٹر کامران مرزاکو زنجیروں سے جکڑ کر الٹا لٹکایا ہوا تھا۔ اور وہاں شیلاک موجود تھا۔وہ ان پر تشدد کرتا ہے کہ بتاؤ باقی ساتھی کہاں ہیں۔

★★★★★★


اسی دوران آصف اور شوکی بے مثال ذہانت کا استعمال کرکے ان کو وہاں سے نکال لے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ شیلاک کو بے ہوش کر کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اب وہ سب واپس اپنے ساتھیوں کے پاس جاتے ہیں شیلاک کو ہوش میں لاکر اس سے پوچھ گچھ کرنے لگتے ہیں لیکن وہ ایک دھماکے سے اپنے آپ کو اڑا لیتا ہے
۔

آدم خوروں کا حملہ

انسپکٹر جمشید کے سر کا زخم الٹا لٹکنے کی وجہ سے پھر کھل چکا تھا اس لیئے یہ ایک ڈاکٹر کو اپنے اڈے پر لے آتے ہیں۔ وہ ڈاکٹر سے شمال مغرب کا راستہ معلوم کرتے ہیں تو وہ بتاتا ہے کہ وہاں تو آدم خوروں کا ایک قبیلہ ہے اور آگےپہاڑ سمندر اور اندھیرے کی وادی ہے۔ وہاں کچھ نظر نہیں آتا اور نہ وہاں کوئی جاتا ہے۔ اب یہ ڈاکٹر کو بھی ساتھ ہی لے کر آگے چل پڑتے ہیں۔ اچانک ان پر ایک آدم خور حملہ کردیتا ہے، یہ اس کو ٹھکانے لگادیتے ہیں مگر انکشاف ہوتا ہے کہ آدمخور کے روپ میں وہ ایک بیگالی ہوتا ہے۔
آگے ان کی سینکڑوں آدم خوروں سے ہولناک اور جان لیوا جنگ ہوتی ہے۔ خان رحمان یہاں بھی اپنی فوجی حکمت عملی سے جنگ جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جنگ میں ڈاکٹر ڈومی رو بھی ان کا ساتھ دیتا ہے۔ اس جنگ سے وہ سرخرو ہو کر نکلتے ہیں ۔

سیاہ کیڑوں کی وادی

اب یہ آگے روانہ ہوتے ہیں اور ایک جگہ پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ یہ وہی سیاہ کیڑوں کی وادی ہوتی ہے۔ ہر طرف درخت سیاہ کیڑے سے ڈھکے ہوتے ہیں اسی وجہ سے ہر چیز کالی نظر آرہی ہوتی ہے۔ یہ پھر ترکیبیں لڑاتے ہیں کہ جنگل کو کیسے پار کریں۔ آخر یہ لکڑیاں جمع کر کے ان کو آگ دکھاتےہیں تو کیڑے بے دم ہو کر گرنا شروع ہو جاتے ہیں اب یہ درختوں کی جھاڑیوں سے جھاڑو بناکرصفائی کرتےہوئے آگے بڑھتے ہیں جنگل پار کرتے ہیں انھیں دور کوئی انسان کھڑا نظر آتا ہے۔
یہاں وہ نماز ادا کرتےہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر ڈومی رو بھی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ اسلام میں دلچسپی لیتا ہے۔ یہ اور آگے بڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہ آدمی رونل ہوتا ہے۔

★★★★★★


یہاں انھیں پتہ چلتا ہے کہ رونل کے قبضے میں بیگم جمشید، بیگم کامران مرزا اور شوکی کی والدہ ہوتی ہیں جنھیں اس نے اغوا کروایا ہوتا ہے تاکہ یہ لوگ ایٹمی پلانٹ کی طرف نہ جائیں۔
یہاں ٹیلوں کے پیچھے رونل کے آدمی چھپے ہوتےہیں مگر یہ سب بھی خان رحمان کی کمانڈ میں مقابلے پر آجاتے ہیں۔ان کے پاس آدمخوروں کے تیرکمان اور پستول ہوتے ہیں۔ ایک خوفناک جنگ کے بعد یہ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس جنگ میں رونل انسپکٹر جمشید کے ہاتھوں بڑی آسانی سے مارا جاتا ہے۔ 

ایٹمی پلانٹ پر

یہاں سے اب وہ آگے بڑھنے کی تیاری کرتے ہیں کیونکہ ایٹمی پلانٹ اب زیادہ دور نہیں ہوتا۔ ایسےمیں ڈاکٹر ڈومی رو بولتا ہے کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور وہ اسے خوشی سے کلمہ پڑھوا کر اسلام میں داخل کرواتےہیں اور اسکا نام “محمد عبداللہ” رکھ دیا جاتا ہے۔

★★★★★★


اب یہ آگے بڑھتے ہیں تو ایک آبنائے میں ایٹمی فاضل مادہ بہتا نظر آتا ہے یعنی وہ صحیح راستے پر تھے۔ یہ آبنائے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور پھر ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا صرف اندھیرا ہوتا ہے۔ گویا یہ اندھیرے کی سرحد ہوتی ہے اور فاروق اسے ناول کا نام قرار دیتا ہے۔ یہاں شوکی اپنی جیب سے ایک عجیب سی عینک نکالتا ہے جس سے اندھیرے میں بھی صاف دیکھا جاسکتا تھا یہ اسے کے ہاتھ کسی گزشتہ کیس میں لگی تھی۔

★★★★★★


اب مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایٹمی پلانٹ کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا تاکہ کسی کو نظر نہ آ سکے۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی پر ایک گول سا شیشے کا خول سا ہے اس کے آس پاس ریموٹ کنٹرول طیارہ شکن توپیں نصب ہوتی ہیں۔ اندر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا بس خول کے ساتھ ایک مینار کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ایٹمی پلانٹ ہے اور بم پروف بھی ہے۔ اب انھیں کسی طرح اس کے اندر جاناہوگا کیونکہ اندر سے ہی اسے تباہ کیا جاسکتا ہے۔

★★★★★★


ایٹمی پلانٹ اور ان کے درمیان میں ایک گہری اندھی کھائی ہوتی ہے اور انھیں اب اس کو پار کرکے اس خول تک پہنچنا ہے۔ اب انسپکٹر جمشید منور علی خان سے پوچھتے ہیں کیا آپ کے پاس اتنی لمبی رسی اور آنکڑہ ہے جو مینار تک جا سکے۔ وہ بولتے ہیں کہ ہاں ہے۔
اب یہ باری باری آنکڑہ پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آنکڑہ پھنس نہیں رہا ہوتا یہ حیران ہوتے ہیں پھر یہ عینک لگاکر دیکھتےہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آنکڑہ تو صحیح جگہ گر رہا تھا مگر ایک ہاتھ کہیں سے نمودار ہو کر اس آنکڑے کو نکال دیتا تھا۔
اب یہ آنکڑہ پھینکتے ہی اس ہاتھ پر گولی چلاتے ہیں تاکہ وہ نکال نہ سکے مگر گولی خول کے قریب جاکر پگھل جاتی ہے۔اچانک وہاں ایک ہیلی کاپٹر آتا ہے اور خول کے اوپر کسی کو اتار رہا ہوتا ہے اسی وقت یہ جلدی سے آنکڑہ پھینک دیتے ہیں
اور وہ ہاتھ اس کو نکال نہیں پاتا۔ آنکڑہ پھنس جاتا ہے۔اور یہ اسے کھینچ کر ایک چٹان سے باندھ دیتے ہیں۔




فاروق کی موت

اب یہاں سے ایک سنسنی خیز اور خطرناک سفر کا آغاز کرنا ہوتاہے فاروق کو جسے اوپر رسی کی مدد سے بھیجا جا رہا ہے۔ اب وہاں اوپر دشمن موجودہے۔ بچنے کا کوئی موقع نہیں جبکہ فاروق کو رسی کی مدد سے اوپر جانا ہے۔ مگر اسلام اور ملک و قوم کی خاطر یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ فاروق اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے۔ اب یہ اوپر چڑھ رہا ہے اور نیچے گہری کھائی ہے اور اس کے ہاتھ شل ہو رہے ہوتے ہیں۔

★★★★★★


بلآخر وہ خول تک پہنچ جاتا ہے اور اب اسے آگے کا منظر صاف دکھ رہا ہوتا ہے اسلئے وہ عینک واپس رسی میں پرو کر نیچے بھیج دیتا ہے۔ اور مینار کی طرف چڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ اب وہ جیسے ہی اوپر دیکھتا تو ایک دشمن اسکے انتظار میں کھڑا تھا۔ وہ بولتا ہے کہ میں اس دروازے کا نگران ہوں اور کسی کو اندر نہیں جانے دونگا۔ اسکے ہاتھ میں خنجر ہوتا ہے۔ وہ ایک دو دفعہ حملہ کرتا ہے اور فاروق اپنا بچاؤ کرتا ہے۔ پھر ایکبار جیسے ہی وہ حملہ کرتا ہے فاروق اپنے خالی پستول سے اس کا جواب دیتا ہے ان کی کھینچا تانی ہوتی ہے اور وہ دشمن نیچے کھائی میں جا گرتا ہے۔ فاروق گنبد پر چڑھ جاتا ہے تو دروازہ بند ہونے والا ہے وہ اپنی ٹانگ اڑا کر دروازہ روک دیتا ہے مگر وہاں ایک اور دشمن ہوتا ہے اس سے بھی ہاتھا پائی ہوتی ہے۔فاروق اسے بٹ مار کر بے ہوش کر دیتا ہے اور نیچے اپنے ساتھیوں کو اوپر آنے کا اشارہ کرتاہےمگر اچانک سیڑھیوں سے دو خنجر بردار دشمن آجاتےہیں۔ وہ بولتے ہیں کہ پیچھے پوری فوج آرہی ہے۔ فاروق نیچے انسپکٹر جمشید کو اطلاع دیتا ہے مگر وہ چڑھنا جاری رکھتے ہیں۔

★★★★★★


ادھر اوپر وہ دونوں دشمن فاروق کو نیچے پھینکنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ فاروق ان دونوں کی گردن سے لپٹ جاتا ہے اور وہ تینوں نیچے لڑھکنے لگتے ہیں اور پھر فاروق ان دونوں دشمنوں کے ساتھ کھائی میں گِر جاتا ہے۔
نیچے یہ فاروق کی موت پر سب آنسو بہانے لگتے ہیں۔ اب انسپکٹر جمشید اور کامران مرزا رسی کے ذریعے اوپر چڑھ رہے ہیں۔ اب یہ دونوں لڑتے بھڑتے اوپر پہنچتے ہیں اور کئی دشمنوں کو کھائی میں پھینک دیتے ہیں۔ اب یہ سب رسی پر چڑھ رہے ہوتے ہیں اچانک ان سب کے سانس رکنے لگتے ہیں اور پھر وہ سب ایک ایک کرکے کھائی میں گرنے لگتے ہیں۔
اب ان کی آنکھ کھلتی ہے تو فاروق کی ورد کرنے کی آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے۔ پھر انکشاف ہوتا ہے کہ کھائی میں ایک رسی کا جال تنا ہوا تھا اور وہ سب اس پر گرے تھے۔ یہاں بیگمات بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اب وہ سب ایک سبزہ زار میں پڑے ہوتے ہیں اور وہاں رونل شیلاک اور ریوٹا آجاتے ہیں تو یہ لوگ ہکا بکارہ جاتے ہیں کہ یہ زندہ کیسے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جو مرے تھے وہ نقلی تھے۔

خفیہ دروازہ

وہ بولتے ہیں کہ ہم تمھیں اس شرط پر واپس جانے دے سکتے ہیں اگر تم ہمیں بتا دو کہ جہاز کا سونا اور ڈاکوؤں کاخزانہ کہاں چھپایا ہے۔ کیونکہ سونا انھیں نہیں ملا ہوتا۔اسی لیئے اب تک انھوں نے ان سب کو زندہ رکھا تھا۔ اب وہ تینوں ان کے سامنے آجاتے ہیں مگر انھی پتہ چلتا ہے کہ یہ حرکت نہیں کر سکتے کسی گیس کا اثر ہے۔
یہ سب بولتے ہیں کہ مر جائیں گے مگر خزانے کا اور سونے کا پتہ نہیں بتائیں۔ وہ تینوں مشورہ کر کے ان سے بولتے ہیں کہ ٹھیک ہے ہمیں ایٹمی پلانٹ کی سیکیوریٹی چیک کرنی ہے اسلئے تم اندر داخل ہو کر دکھاؤ۔ یہاں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ تمھارے ملک میں جابانی ہمارے لئے جاسوسی کرتےہیں اور معلومات پہنچاتے ہیں۔ آدھے گھنٹے بعد ان کی توانائی بحال ہو جاتی ہے۔ اب یہ سب اپنی صلاحیت کو آزماتے ہیں اور بلآخر خفیہ راستہ تلاش کر کے پلانٹ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ہولناک لمحات

اب یہاں موت اور زندگی کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران شوکی کے ہاتھ ایٹمی پستول لگ جاتا ہےمگر یہ اسے چلانا نہیں جانتے۔
یہاں پھر سے خان رحمان انھیں جنگی انداز میں لڑواتے ہیں۔ ایک خونریز جنگ چھڑ جاتی ہے۔ دشمن بے شمار ہوتے ہیں اور ان کی تعداد کم ہوتی ہے مگر پھر بھی یہ سب زخمی ہونے کے باوجود لڑتے رہتے ہیں۔ یہاں منور علیخان کے عجیب ہتھیار بھی کام دکھاتے ہیں۔

★★★★★★


ایسے میں انھیں پتہ چلتا ہے کہ پروفیسر داؤد غائب ہیں۔ مکھن ان کی تلاش میں نکلتا ہے۔ یہاں شوکی برادرز کی لڑائی سب سے عجیب طریقے کی تھی۔ اس جنگ میں سب بری طرح زخمی ہوتے ہیں۔
مکھن پروفیسر داؤد کو کنٹرول روم میں تلاش کر لیتا ہے۔ وہاں ان کی بھی دشمن سے لڑائی ہوتی ہے۔ ریوٹا کے بالوں کی کمزوری ان کے ہاتھ آجاتی ہے اور یہ اس کو بے ہوش کردیتے ہیں۔ شیلاک بھی انسپکٹر کامران مرزا کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے۔
باہر بھی سب جی جان سے لڑ رہے ہوتے ہیں اچانک رونل کو یاد آجاتا ہے کہ پروفیسر داؤد غائب ہیں۔ وہ غصے میں آجاتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ وہ پلانٹ کے اندر ہیں۔ اب یہ اس کو روکتے ہیں اور وہ اندر جانا چاہتا ہے۔ وہ دروازے پر ٹکریں مارنے لگتا ہے۔

پروفیسر داؤد کی چال

اب پھر سے شیلاک رونل ریوٹا میدان میں آجاتے ہیں ایسے میں ریوٹا مکاری سے ایک چاقو انسپکٹر جمشید کی طرف پھینکتی ہے مگر وہ ڈاکٹر محمد عبداللہ کو لگ جاتا ہے اور وہ شہید ہو جاتا ہے۔
اب اچانک اندر سے پروفیسر داؤد باہر آتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ٹھیک دو منٹ بعد یہ جگہ تباہ ہونے والی ہے بھاگ چلو۔

اب وہ سب باہر کی طرف دوڑتے ہیں ان سے پہلے رونل شیلاک اور ریوٹا نکل جاتے ہیں۔ اب یہ سب مینار والی جگہ پہنچتے ہیں جہاں رسی کے ذریعے فاروق اوپر آیا تھا۔
یہاں پھر ان کی رونل شیلاک اور ریوٹا سے جھڑپ ہوتی ہے۔ ان کے سب ساتھی اس رسی کے سہارے نیچے پہنچ جاتے ہیں۔ شکست ہوتی دیکھ کر وہ تینوں مجرم فرار ہو جاتے ہیں۔
اس دوران 2 منٹ گزر چکے ہوتے ہیں اور وہ گھبرا جاتے ہیں کیونکہ بم نہیں پھٹے ہوتے۔ اب پروفیسر داؤد کہتے ہیں کہ یہ ان کی چال تھی اور بم کے پھٹنے کا ٹائم 2 نہیں 5 منٹ ہے۔

ایٹمی پلانٹ کی تباہی

اب وہ وہاں سے آبنائے کی طرف بھاگتے ہیں جہاں ایک لانچ موجود تھی۔ وہ لانچ میں بیٹھ کر جزیرے کے طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں جہاز اور سونا موجود تھا۔ اسی وقت کان پھاڑ دینے والے دھماکے ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور بیگال کا ایٹمی پلانٹ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔

★★★★★★

وہ جزیرے پہنچ کر سونا جہاز پر لوڈ کرتے ہیں اور وہاں سے نکل جاتے ہیں تیسرے دن انھیں ایک دوست ملک کا جہاز مل جاتا ہے اس سے سمت معلوم کرکے یہ اپنے ملک کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں انھیں کیس کا سہرا یاد آجاتا ہے اور اس مرتبہ اس کیس کا سہرا ڈاکٹر محمد عبداللہ شہید کے سر جاتا ہے اور اسے یاد کر کے سب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

 

ختم شد
   ★★★★★★

 




اشتیاق احمد کا یہ ایک شاہکار خاص نمبر ہےجس میں تیزی، ایکشن، ایڈونچر، ذہانت، شوخیاں، نوک جھونک، خونی مقابلے، ہولناک لمحات، ایک فلم کا سا منظر پیش کرتے ہیں اور پڑھنے والا خود کو اس کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ ناول پر گرفت آخر تک برقرار رہی۔

★★★★★★★★★ 9.5/10 :کتاب دوست ریویو ریٹنگ

آپ کے خیال میں ناول کی ریٹنگ کیا ہے؟
اپنا ووٹ دیجئے اور رزلٹ دیکھئے

[yop_poll id=”2″]

آپ کو یہ جائزہ یا خلاصہ کیسا لگا مجھے ضرور بتائیے گا۔ اگر حوصلہ افزائی ہوئی تو باقی کے تمام خاص نمبرز کا بھی خلاصہ پیش کروں گا۔ ۔

 

Download full novel : Begal Mission

 

نوٹ: یہ خلاصہ پیش کرنے کامقصد اشتیاق احمد کا پیغام ان لوگوں تک پہنچانا ہے جو اپنی تعلیمی، معاشی، گھریلو، یا کسی اور مصروفیت کی وجہ سے ضخیم و طویل ناول پڑھنے کا وقت نہیں نکال سکتے یا ان کو یہ ناول کسی بھی وجہ سے میسر نہیں آئے یا ایسے لوگ جو ملک سے باہر چلے گئے یا ان کی اولادیں جو پاکستان سے باہر پروان چڑھی ہیں انھیں پاکستان کے ان نامور مصنفوں کی کتابوں کے بارے میں تعارف پیش کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ جن فتنوں اور سازشوں کا ذکر ناولوں میں کیا گیا ہے ان سے آگاہی حاصل ہو۔ اب اس کوشش میں کتنی کامیابی ہوتی ہے یہ اللہ کو معلوم۔

شکریہ

Shahzad Bashir

Publisher: KitabDost.com


اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولز Nimra Ahmed Novels  عمیرہ احمد کے ناولز Umera Ahmed Novels  اشتیاق احمد کے ناولز Ishtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریز Imran Series دیوتا سیریز Devta Series انسپکٹر جمشید سیریز Inspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولز شہزاد بشیر کے ناولز Shahzad Bashir Novels نسیم حجازی کے ناولز Naseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟  We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff !   Donate | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon

Shahzad Bashir

شہزاد بشیر (مصنف / ناشر / بلاگر) مکتبہ کتاب دوست کے بانی ہیں۔ کتاب دوست ڈوٹ کوم اور دیگر کئی ویب سائٹس کے ویب ماسٹر ہیں۔ آئی ٹی کی فیلڈ میں گزشتہ بارہ سال سے لکھتے آرہے ہیں۔ بطور مصنف 15 اردو ناول شائع ہو چکے ہیں۔ مزید تفصیلات ان کی ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

5 thoughts on “Novel Review & Video Summary: Begal Mission

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave the field below empty!

Next Post

Inspector Jamshed: Complete biography of Inspector Jamshed

Mon Nov 16 , 2020
INTRODUCTION: Since our childhood, We have been reading Ishtiaq Ahmed’s Inspector Jamshed Series in our homes, schools, colleges, universities and even in the office in our spare time. We are brought up with these characters that everybody loves. Mehmood Farooq Farzana & Inspector Jamshed. Yes these characters are the longest […]

ایسی مزید دلچسپ تحریریں پڑھئے

Chief Editor

Shahzad Bashir

Shahzad Bashir is a Pakistani Entrepreneur / Author / Blogger / Publisher since 2011.