ناکامی کا خوف
محمد بلال حسن

خوف بھی ایک عجیب کیفیت ہے یہ اکثر انسان سے وہ کام کروا دیتا ہے جو عام حالت میں ممکن نہیں ہوتے اور اکثر ان کاموں سے بھی روک دیتا ہے جو ہم عام حالات میں کر سکتے ہیں۔
دنیا کا نظام خوف اور پابندی پر چل رہا ہے۔
خوف ہمیشہ مستقبل کا ہوتا ہے لیکن اس کی وجہ اکثر ہمارا ماضی ہوتا ہے۔
اگر ہم ماضی کو بھلا کر اور مستقبل سے بے نیاز ہو کر چلتے جائیں تو بے خوف و خطر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ہماری نوجوان نسل میں ناکامی کا خوف بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔
اس کی وجہ ہمارے ایمان کی ناپختگی بھی ہے۔
شاید ہم منحصر زیادہ کرتے ہیں۔ہم۔اسباب پر منحصر کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
جب تک ہم آزاد نہیں ہوں گے ہم خوف کا شکار رہیں گے۔خوف کی وجہ یہ ہے کہ ہم انحصار کرتے ہیں۔
ہماری روح کو خوف سے آزاد ہونا پڑے گا۔آزاد نہ ہونے کی ایک وجہ احساس کمتری ہے جو ہمارا معاشرہ ہمارے اندر بچپن سے تھوپ دیتا ہے۔
اپنے بچوں کو بچپن سے آزاد بنائیں۔ایسی چیزوں سے بچائیں جو ان کے اندر احساس کمتری پیدا کردیں۔
ایسی چیزیں بچوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہیں۔ایسا بچہ جب معاشرے میں جاتا ہے تو بہت سی مشکلات اس کےلیے تیار کھڑی ہوتی ہیں۔
ایسا بچہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا۔اس کی قائدانہ صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔
ایسی ذہنی بیماریوں کا حامل بچہ خود اپنی خواہشوں کا بوجھ اٹھانے سے بھی قاصر ہوتا ہے۔
جس طرح جسمانی طور پر ایک کمزور لڑکا اتنا وزن نہیں اٹھا سکتا جتنا کہ جسمانی طور پر ایک طاقتور لڑکا۔
اسی طرح ذہنی طور پر ایک کمزور بچہ اتنی سوچوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ ہی وہ اپنے معاشرے کے ساتھ قدم بقدم چل سکتا ہے۔
خود اعتمادی اور “کنفیڈنس” ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
خوداعتمادی انسان سےا چھے فیصلے کرواتی ہے جبکہ عدم اعتمادی یا “لو کنفیڈنسی” انسان کے اچھے فیصلے اور بڑے قدم میں رکاوٹ ہوتی ہے۔
بچوں کے اندر اس بیماری کے ہونے کی ایک وجہ ہمارے ٹیچرز بھی ہیں۔آپ یقینا چونک گئے ہوں گے لیکن ایسا ہی ہے۔
ہمارے ہاں کچھ “ان پروفیشنل” ٹیچرز بچوں کو بچپن سے ہی “ڈی گریڈ” اور ان کا دوسروں سے تقابل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جس کا بالواسطہ نقصان ہمارے معاشرے کو ہوتا ہے۔
“یہی وجہ ہے کہ استاد قوم کا معمار ہونے کے باوجود 74 سالوں میں ہماری قوم کو تعمیر نہیں کرسکا۔”
ایسی چیزیں ہمارے اندر ناکامی کا خوف پیدا کرتی ہیں اور ناکامی کا خوف انسان کی کامیابی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
انسان خوف کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے اور عمر بھر ناکامیوں کی ویران کوٹھڑی میں قید رہتا ہے اور ایک قیدی زندگی کو صرف حسرت سے گزرتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔
خود کو آزاد بنائیں۔احساس کمتری سے بچائیں کیونکہ یہ چیزیں انسان کے اندر داخل ہو جائیں تو عمر بھر نکل نہیں پاتیں۔
خیر اندیش:محمد بلال حسن
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


