ِ رائٹر اکاؤنٹ بنائیے
  ِاپنی تحریر پوسٹ کیجئے
  مفت ناول ڈاؤن لوڈ کیجئے
ِ آن لائن شاپ / کتاب آرڈر کیجئے  
       
       
  قسط وار ناول پڑھئے
  بچوں کی کہانیاں پڑھئے
  بلاگ بنانا سیکھئے
ِدیگر اہم اصناف  
       

قارئین کی پسندیدہ کیٹگریز

              

Kitab Dost Year 2021 Review

Kitab Dost Year 2021 Review

from Start to finish Year 2021 in Review 

کتاب دوست ویب سائٹ سالانہ جائزہ 2021

شہزاد بشیر ۔ ویب ماسٹر (کتاب دوست گروپ آف ویب سائٹس)

السلام علیکم کتاب دوستو

 سال 2021 کے 6 دن باقی ہیں۔ یہ سال کتاب دوست ویب سائٹ کیلئے کیسا رہا اس کا ایک جائزہ آج پیشِ خدمت ہے۔ تاکہ قارئین سبسکرائبرز سپورٹرز اور ایڈورٹائزرز بھی موجودہ اور آنے والے سال کے منصوبوں سے آگاہ ہوسکیں۔

  فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں ۔ موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں ۔ علامہ محمد اقبال

یہ شعر بھی کتاب دوست کے نقطہ آغاز کا سبب بنا۔ میں گزشتہ دس سال سے یعنی 2011 سے فری لانسنگ کی دنیا میں ہوں۔ اگست 2011 میں میں نے اپنا کیریئر بطور سیلز اینڈ مارکیٹنگ پروفیشنل آن لائن مارکیٹ سے شروع کیا اور پھر چھ ماہ بعد اپنا ایک بلاگ شروع کیا جس میں نئے فری لانسرز کیلئے آرٹیکلز اور اپنے تجربات لکھنےلگا۔ اس وقت انٹرنیٹ پر مشہور آرٹیکلز کی ویب سائٹس پر اپنے آرٹیکلز بھیجے جو انہوں نے شائع کئے تو اس دوران گوگل کا ایک آتھرشپ پروگرام تھا جس میں گوگل ٹاپ ارٹیکلز کے ساتھ رائٹر کی تصویر بھی شائع کرتا تھا۔ اس حوالے سے میرے کئی بہت اہم فری لانسنگ سے متعلق آرٹیکلز کو گوگل نے میری تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران مشہورو معروف ویب سائٹ “ای لانس۔کوم” جس پر میں فری لانسنگ سے متعلق خدمات انجام دے رہا تھا۔ ان کی جانب سے پاکستان میں فریلانسرز ریکروٹمنٹ اینڈ ٹریننگ پروگرام کیلئے مجھے بطور ریجنل ہیڈ دعوت نامہ بھیجا گیا اور ایک انٹرویو کیا گیا جس میں انہوں نے مجھے اپنا پروگرام واضح کیا۔ اس میں سب کچھ ٹھیک لگا مگر ایک شرط ان کی ایسی تھی جو میرے لئے ممکن نہ تھی وہ یہ کہ کراچی میں میں اپنی ذاتی انوسٹمنٹ سے ان کے پروگرامز کرواؤں اور ایک باقاعدہ دفتر قائم کروں۔جس کی مد میں وہ سال کے آخرمیں اخراجات ادا کریں گے۔ اس پر مجھے انکار کرنا پڑا کیونکہ بھاری اخراجات میرے بس سے باہر تھے۔

بہر حال نئے فری لانسرز کی تربیت کے لئے میں لکھتا رہا اور اب تک کوئی سوا سو کے قریب آرٹیکلز صرف میرے اپنے بلاگ پر موجود ہیں اس کے علاوہ کچھ انٹرنیشنل ویب سائٹس پر بھی لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ای بکس بھی شائع کی ہیں۔ سال 2019 میں یوکرین کی ایک بڑی جاب ویب سائٹ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہپاکستانی ٹیلنٹڈ فری لانسرز کو اس ویب سائٹ سے جابز حاسل کرنے میں تعاون کروں گا مگر ہمارے فری لانسرز کا مائنڈ سیٹ اور سروسز میں مسائل کا سامنا رہا جس سے وہ پروگرام غیر موثر ہوکر رہ گیا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ اور قابل ذکر کام کئے مگر ابھی ان کا ذکر یہاں طوالت کی وجہ سے نہیں کروںگا۔

کتابوں سے دوستی بچپن سے 

کتاب سے دوستی تو بچپن میں ہی ہوگئی تھی جب میں ابھی اسکول بھی نہیں جاتا تھا۔ میرے بڑے بھائی اور بہن کی کتابیں گھر میں ہی پڑھنے کا شوق مجھے کتابوں سے قریب رکھتا تھا پھر جب اسکول میں داخلے کیلئے گیا اور میرا ٹسٹ لیا گیا تو پرنسپل صاحبہ اور ٹیچر حیران رہ گئے جب میں روانی سے اردو پڑھنے لگا۔ ٹیچر تو اتنی پرجوش ہوگئیں کہ مجے براہِ راست تیسری جماعت مین داخل کرنے کا کہا۔ یوں پرنسپل صاحبہ بھی متفق تھیں مگر انہوں نے کہا کہ بچے کی چونکہ عمر ابھی کم ہے اسلئے اسے تیسری جماعت میں تو نہیں لیکن دوسری جماعت میں داخلہ دیں گے۔ تو یوں میں نے پہلی جماعت کی شکل ہی نہیں دیکھی اور براہ راست دوسری جماعت میں داخلہ مل گیاجس کی اطلاع جب میرے والد صاحب کوملی تو وہ بے حد خوش ہوئےکیونکہ گھر میں تو سب کو ہی معلوم تھا میرے بارے میں۔ اگلے سال 1983 میں میں تیسری کلاس  تھا ایک روز گھر میں ایک ناول رکھا نظر آیا جس کا نام تھا “خون آلود خنجر” اس وقت تک میں بچوں کے رسائل پڑھا کرتا تھاجیسے نونہال ٹوٹ بٹوٹ بچوں کا رسالہ و دیگر اس کے علاوہ کبھی ڈائجسٹ بھی ہاتھ آجاتی تھی تو اس میں لطائف اور حکایات ڈھونڈکر پڑھ لیتا تھا۔ خون آلود خنجر پاکستان کے عظیم جاسوسی مصنف جناب اشتیاق احمد مرحوم کا لکھا ہوا ایک بہت ہی زبردست ناول ہے مگر مجھے اس وقت نہ مصنف کا پتہ تھا نہ نام سے کچھ لینا دینا تھا۔ ناول پڑھا تو بہت زیادہ پسند آیا۔ پھر ایک دوست کے توسط سے کچھ ناول اور پڑھے جو وہ ایک لائبریری سے لایا کرتا تھا میں نے اسے اپنے لئے بھی ناول لانے پر راضی کر لیا۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بھی میں کتاب دوست ڈوٹ کوم پر شیئر کر چکا ہوں۔ 

اکتوبر 2020 : کتاب دوست ڈوٹ کوم کی شروعات

رات میں اکثر جب میں کام کرتے ہوئے کچھ لمحات مل جاتے تھے تو اشتیاق احمد کے پرانے ناول ادھر ادھر سے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ لیا کرتا تھاکیونکہ کتابی شکل میں تو پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا۔ یونہی 2019 میں ڈاؤنلوڈنگ کرتے کرتے ایک روز عماد حسن صاحب کی مرتب کردہ وہ اشتیاق احمد کے ناولوں کی لسٹ مل گئی۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ وہ کس نے بھیجی یا کہاں سے ڈاؤنلوڈ کی مگر لسٹ ملی تو پرانے ناول دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا اور ایک ایک کرکے 2020 کے جون کے مہینے تک دوبارہ سارے ناول پڑھ ڈالے۔ اس دوران میں دیکھتا رہا کہ لوگ کس طرح اشتیاق احمد کے ناولز ادھر ادھر سے مانگ مانگ کر پڑھ رہے ہیں۔ ساتھ ہی ایک بہت پریشان کن صورت حال یہ بھی دیکھی کہ اکثرو بیشتر ویب سائٹس نے فیک لنکس دیئے ہوئے ہوتے تھے۔ یعنی اگر کوئی ناول ڈاؤن لوڈ کرنے لگیں تو بہت گھماؤپھراؤ والا چکر بھگتنا پڑتااور بہت سی ویب سائٹس پر جو ڈاؤن لوڈ کا لنک ملا وہ اکثر غیر اخلاقی ویب سائٹس پر لے گیا۔ یا پھر گیمز کی ویب سائٹ پر۔ اور بعض لنکس ویسے تو ڈاون لوڈ کیلئے ہی ملے مگر اس صفحے پر غیر اخلاقی اشتہارات کو دیکھ کر بہت حیرت اور پریشانی ہوئی۔

میں چونکہ خود بھی ویب ڈیویلپر ہوں اور ویب سائٹس بنانا میرا شوق بھی ہے اور پیشہ بھی۔ تو اچانک ایک خیال بجلی کی طرح سے کوندا کہ جو لسٹ میرے پاس موجود ہے اشتیاق احمد کے ناولوں کی اس پر ایک ویب سائٹ کیوں نہ بنا دی جائے۔ تاکہ قارئین کو ایک ہی ویب سائٹ میں ترتیب وار سنِ اشاعت کے حساب سے ناول ڈاؤن لوڈ کرنے میں آسانی ہو اور ادھر ادھر سے مانگنے اور ڈاؤن لوڈ کے چکر میں ادھر ادھر چکرانے اور وقت ضائع کرنے سے بچ جائیں۔ اس خیال سے میں نے انٹرنیٹ پر فوراَََ ویب سائٹ کا ڈومین سرچ کرکے خرید لیا اور ویب سائٹ بنانی شروع کی۔

یوں یکم اکتوبر 2020 کو کتاب دوست ڈوٹ کام کا آغاز ہوا اور اس پر کئی دنوں کی لگاتار محنت کے  بعد تمام ناول ترتیب وار اس ویب سائٹ میں شامل ہوگئے۔ نہ صرف ترتیب وار بلکہ انسپکٹر جمشید سیریز، کامران مرزا سیریز اور شوکی سیریز  کے علاوہ اشتیاق احمد کے 64 خاص نمبرز کی الگ کیٹگری بھی بنادی تاکہ مزید آسانی سے ناول مل جائیں۔ ابھی یہ کام جاری ہی تھاکہ قارئین نے عمران سیریز کا بھی پوچھنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ مختلف مصنفوں کے بھی ناول اپ لوڈ کرنے کی درخواستیں آنے لگیں۔

اب میرا کام اور بڑھ گیا مگر اردو ادب میں کتب سے دوری اور کتابوں کے زوال جیسی باتیں سننے کے بعد سوچا کہ اگر میں کسی طرح قارئین کو واپس کتابوں کی جانب لاسکوں تو یہ بھی ایک بڑی بات ہوگی۔ ویسے بھی گزشتہ دس سال سے میں یہی کام تو کر رہا ہوں تو کیا ہوا اگر انگریزی کے علاوہ اردو ادب میں بھی کچھ کام کرلوں اور اردو ادب کے حوالے سے بھی پاکستان کی خدمت کر سکوں۔ تو بس اس کے بعد بھی پھر عمران سیریز، پھر نمرہ احمد اور عمیرہ احمد، نسیم حجازی اور پھر دیگر اور مصنفین کی بھی کتب کے لنکس شامل کردیئے گئے۔

نو 9 نومبر 2020 : ناول لکھنے کی شروعات 

 اسی دوران میرا بھی لکھنے لکھانے کا بچپن کا شوق دوبارہ جاگ گیا۔ اب میرا حوصلہ کافی بڑھ چکا تھا تو اپنے فری لانسنگ کے کام کے فارغ اوقات میں نے نے اشتیاق احمد کے ایک خاص نمبر “باطل قیامت” کا خلاصہ لکھ ڈالا۔ اس دوران میں اپنے ایک آن لائن کسٹمر کا ویڈیو ایڈیٹنگ سے متعلق کام کررہا تھا تو اسے کے بعد میں نے اس خلاصے کو ویڈیو کی شکل میں ڈھال کر اپنی ویب سائٹ پر ریلیز کر دیا جس کے بعد قارئین کی ایک بہت بڑی تعداد نے ایسی مزید ویڈیوز کی  فرمائش کی تو میں نے کچھ دن بعد اشتیاق احمد کے ایک اور شاہکار خاص نمبر “بیگال مشن” کا خلاصہ لکھا اور اسے بھی ویڈیو فارمیٹ میں ریلیز کر دیا۔

دیکھئے اشتیاق احمد کے 2 عظیم الشان خاص نمبرز کے خلاصے ویڈیو فارمیٹ میں بیک گراؤنڈ ساؤنڈ افیکٹس کے ساتھ پہلی بار ۔ اسکے علاوہ نئی نسل اور نئے قارئین کیلئے انسپکٹرجمشید کی بائیوگرافی ویڈیو

باطل قیامت” ویڈیو سمری       ۔    “بیگال مشن” ویڈیو سمری” ۔     “انسپکٹرجمشید کی بائیوگرافی ویڈیو

 

ان ویڈیو خلاصوں کو قارئین نے بے حد پذیرائی سے نوازا تو مزید لکھنے کا حوصلہ پیدا ہوا اور اپنی ویب سائٹ کیلئے میں 14 دسمبر 2020 کو نے ” اشتیاق احمد کے ناول اور میں ” کےعنوان سے ایک واقعہ شیئر کیا کہ کس طرح میں نے ناول پڑھنے شروع کئے تھے۔ وہ واقعہ کتاب دوست پر شائع ہوتے ہی سینکڑوں وزیٹرز نے اسے پڑھا اور مجھے حوصلہ دیا کہ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے اور لکھنا جاری رکھئے۔ یوں میں نے گزشتہ سال آج ہی کے دن یعنی 25 دسمبر 2020  اپنی اسکول لائف کا ایک اور حیرت انگیز اور ناقابل یقین واقعہ “سپر مین” کے عنوان سے شائع کیا جو کہ کافی طویل بھی ہوگیا مگر اس پر صرف 2 دن میں ہی 3 ہزار سے زائد وزٹس ہوئے اور قارئین نے بے حد پسند کیا۔

کتاب دوست ویب سائٹ تیزی سے مقبول ہونے لگی۔ اور میں نے اس پر پروفیشنل گرافکس کے ساتھ ساتھ ویڈیوز اور خاص طور پر اس کے ہر صفحے اور ہر پوسٹ کی گوگل کی پالیسیوں کے مطابق سیٹنگ کر دی جس سے گوگل کے سرچ انجن نے اہم اشتیاق احمد اور دیگر مصنفین کے ناولوں سے متعلق اہم الفاظ کو سرچ کرنے پر کتاب دوست کا لنک دکھانا شروع کر دیا۔ اس عمل کو “سرچ انجن اپٹمائیزیشن” کہتے ہیں اور یہ ایک بے حد مشکل اور صبر آزما کامہوتا ہے جس کیلئے گوگل کی پالیسیوں اور الگورتھم کی معلومات اور گوگل کی شرائط کے بارے میں معلوم ہونا ضروری ہے۔ دوسری بات یہ کہ کتاب دوست پر کبھی بھی کسی مصنف یا پبلشر یا کتاب سے کسی بھی قسم کا مواد کاپی کر کے نہیں رکھا جاتا اور یہی گوگل کی سب سے کڑی شرط ہے کہ مواد چوری شدہ نہ ہو۔ الحمدللہ  کتاب دوست پر جتنا مواد ہے وہ سب طبع زاد ہے اور اس ناچیز کا لکھا ہوا ہے۔ اس لئے کتاب دوست ویب سائٹ آج گوگل کے پہلے صفحے کی بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

اگر آپ اپنی ویب سائٹس کو بھی گوگل کے پہلے صفحے پر رینک کروانا چاہیں تو خدمات حاضر ہیں۔ 923072395447  

دس10 دسمبر 2020: کتاب دوست نیو رائٹر سرچ پروگرام

نومبر 2020کے اواخر میں نئے مصنفین کے لئے کتاب دوست کے پلیٹ فارم سے کتاب دوست نیو رائٹر سرچ پروگرام  کا آغاز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر کتاب دوست کا لوگو ہر طرف نظر آنے لگا تھا۔ نئے مصنفین جو اپنی تحریری شوقیہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کرتے تھے ان کو دعوت دی گئی کہ باقاعدہ کتاب دوست کی ویب سائٹ پر اپنی تحاریر شائع کروانے کا موقع حاصل کریں۔ اس میں بہت سے نئے مصنفین نے اپنی تحریریں ارسال کیں ان میں سے بہترین ناول کتاب دوست کی ویب سائٹ پر شائع کئے گئے۔ اس ضمن میں یہ واضح کر دوں کہ اس پروگرام میں مصنفین کی جو تحریریں شائع ہوئی ہیں اس میں کمپوزنگ ، پروف ریڈنگ، لے آؤٹ ڈیزائن، سرورق ڈیزائن سے لے کر تحریر کو ناول کی شکل میں آن لائن شائع کرنے تک مصنفین سے ایک پائی بھی نہیں لی گئی ہے۔ حالانکہ چند ایک مصنفین نے مجھے ان خدمات کے عوض پیسے دینے کی کوشش کی مگر کسی سے بھی کوئی پیسے نہیں لئے گئے ۔ اس میں جہاں اچھے لکھنے والے نئے رائٹرز سامنے آئے وہیں کچھ نام نہاد مصنفوں نے چوری شدہ یا ڈپلیکیٹ مواد بھی جھوٹ بول کر یا عمداََ  بتائے بغیر کہ وہ پہلے بھی کسی ویب سائٹ پر یا انٹرنیٹ پر شائع ہو چکا ہے ہمیں بھیجا جن میں سے کئی کو گوگل پر سرچ کے دوران ہم نے ڈیٹیکٹ کر لیا اور پھر ان کو بلیک لسٹ کرنا پڑا۔ اس بڑھتے ہوئے رحجان اور ان پر ضائع ہونے والا وقت ہمارے لئے مشکلا ت کھڑی کرنے لگاتو ہمیں یہ پروگرام روکنا پڑا اور اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی گئی کے کس طرح صرف طبع زاد لکھنے والے مصنفین کو موقع دیا جائے ۔ اب 2022 میں اس پروگرام کو دوبارہ کچھ ردو بدل کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ 

 

 ستائیس 27دسمبر 2020 : انسپکٹر جمشید ویب سیریز ویب سائٹ کا آغاز 

جیسا کہ سب کو علم ہے کہ ایک میڈیا کمپنی نے ستمبر 2020 میں انسپکٹر جمشید ویب سیریز کا ایک ویڈیو ٹریلر جاری کیا تھا اور پاکستان اور دنیا بھر میں قارئین خوشی سے اچھل پڑے تھے کہ ویب سیریز بننے جا رہی ہے اسی حوالے سے مجھے بھی خیال آیا کہ ایک ویب سائٹ صرف اشتیاق احمد کے کرداروں کی بھی ہونی چاہئے جہاں ویب سیریز کی ویڈیوز بھی اپ لوڈ ہوتی رہیں۔ تو یوں میں نے ایک اور ویب سائٹ ڈیویلپ کی جس کا نام انسپکٹر جمشید ویب سیریز ڈوٹ کوم ہے۔ اور اس پر بھی اشتیاق احمد کے ناول اور کرداروں کے متعلق معلومات ہیں۔ گو کہ وہ ویب سیریز صرف ایک سراب ثآبت ہوئی اور میڈیا کمپنی اپنے اس اعلان اور ویڈیو ٹریلر کے بعد غائب ہوگئی۔ مگر میری ویب سائٹ بہر حال اسی طرح موجود ہے اور آپ اسے وزٹ بھی کر سکتے ہیں۔ 

جنوری 2021۔ انٹرویوز کا سلسلہ

ویڈیوز کی ریلیز کے بعد ایک گروپ میں اشتیاق احمد کے ناول چوتھا ٹکڑا کی ایک پوسٹ لگائی تو اشتیاق احمد کے ایک مداح اور قاری جناب سید علی وصی زیدی  جن کو کردار کے طور پر بھی ناولوں میں پیش کیا گیا تھا انہوں نے کمنٹ کیا تو ان سے بات چیت ہوگئی اور پھر 23 جنوری 2020 کو میں نے سید علی وصی زیدی کا  انٹرویو کرکے کتاب دوست ویب سائٹ پر شائع کر دیا۔ اس میں میں نے اپنی سیلز اینڈ مارکیٹنگ کے تجربے کی روشنی میں انٹریو سے پہلے سسپنس اور سنسنی خیز پوسٹس سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو قارئین کا شوق دوبارہ بڑھنے لگا۔ اور اشتیاق احمد کے پرانے قارئین و مداح مجھ سے رابطہ کرنے لگے اور کام کو سراہنے لگے۔ پھر جب پہلا انٹرویو ریلیز ہوا تو توقع سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔

 

جنوری 2021: رِدوان سیریز کا آغاز- 

اسی دوران میں نے ایک ناول لکھ کر قسط وار کتاب دوست ڈوٹ کوم پر شائع کرنے کا فیصلہ یا تاکہ ہر ماہ ایک قسط لکھ کر اپنے شوق کی تسکین بھی ہوجائے اور قارئین بھی ویب سائٹ سے منسلک رہیں۔ یوں میں نے ایک ناول لکھنا شروع کیا بلکہ یہ بات بھی شیئر کرتا چلوں کہ لکھنے سے مراد اردو سوفٹویر میں ٹائپ کرنا ہے۔ کیونکہ آج تک میں نے جو بھی لکھا اور اپ نے جوبھی پڑھا ہے خواہ ہو کوئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ ہو یا پھر 224 صفحات کا ناول “وائلڈ لینڈ سے فرار” وہ سب اردو ان پیج پر براہ راست ٹائپ کئے گئے تھے نہ کہ پہے قلم سے کاغذ پر لکھ کر پھر کمپوزنگ کی گئی۔ میں اردو ٹائپسٹ ہوں۔

مشن پوائنٹ بلینک :ردوان سیریز ناول 1 

تو جناب اس طرح سے پہلا ناول لکھنا شروع کیا جس کا نام میں نے پہلے “سرفروش“رکھا تھا اور اس کی پہلی قسط لکھی۔ پہلی قسط چند گھنٹوں میں ہی لکھ لی تھی اور جب  وہ پہلی قسط میرے اہل خانہ نے پڑھی تو کسی کو یقین نہ آیا کہ یہ میری تحریر ہے۔ اور خاص طور پر جو کرداروں کے نام میں نے استعمال کئے۔ مجھے خود معلوم نہیں کہ یہ صلاحیت ناول لکھنے کی میرے اندر تھی یا اسی وقت پیدا ہوئی۔ بعد میں اسی ناول کو قسط وار کے بجائے باقاعدہ ایک ناول کی شکل میں شائع کیا گیا جس کا نام بھی تبدیل کر کے “مشن پوائنٹ بلینک” رکھا گیا جو ردوان سیریز کا پہلا ناول بنا۔ جی ہاں جناب ردوان سیریز کا پہلا ناول۔ اس کے بعد دوسرا ناول “شعاعوں کا ہنگامہ ” لکھا جو ابھی حال ہی میں 17 نومبر کو جناب اشتیاق احمد کی برسی پرخراج تحسین نمبر کی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ ان دو ناولوں کے لکھنے کے دوران ہی اٹلانٹس پبلکیشنز کے جناب فاروق احمد صاحب سے بھی انٹرویو کیلئے رابطہ کیا اور انہوں نے بخوشی اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ اس وقت تک میرے اہل خانہ اور قارئین کی رائے یہ بن چکی تھی کہ مشن پوائنٹ بلینک کو ویب سائٹ پر شائع کرنے کے بجائے کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔ مگر مجھے ڈر تھا کہ یہ ناول اول تو کوئی پبلشر پڑھے گا ہی نہیں اور اگر پڑھ بھی لیا تو ایک نئے رائٹر کی پہلی کاوش سمجھ کر شائد ردی کی ٹوکری میں ہی ڈال دے گا۔

میری ایک عادت ہے کہ کوئی بھی کام ادھورا نہیں چھوڑتا۔ جس کام کا تہیہ کر لیا وہ کرنا ہے اور مکمل کرنا ہے۔ اس وقت تک یہ ارادہ کر چکا تھا کہ اگر قدرت مجھے اردو ادب کی جانب لے ہی آئی ہے اور مجھے یقین ہوگیا کہ میں خود نہیں آیا بلکہ کوئی انجانی طاقت مجھے اردو ادب کی جانب گھسیٹ لائی ہے تو پھر اب رکنا کیسا؟ میں نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ اپنے دونوں ناول “مشن پوائنٹ بلینک” اور “شعاعوں کا ہنگامہ” فاروق احمد صاحب کو ہی سب سے پہلے دکھاؤں گا کیونکہ میرے دل میں فاروق احمد صاحب کا اس وقت سے ہی بے حد احترام ہے جب اشتیاق احمد نے لکھنا بند کر دیا تھا اور یہ ان کو منا لائے تھے اور ساتھ ہی اٹلانٹس پبلکیشنز کا ادارہ بھی قائم کر لیا تھا۔ مجھے عملی زندگی میں کامیاب لوگ پسند ہیں اور پھر فاروق احمد صاحب چونکہ اشتیاق احمد صاحب کے کاروباری پارٹنر بھی ہیں اور ان کے ناول انہی کے ادارے سے شائع ہوتےہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میرے ناول بھی اٹلانٹس سے ہی شائع ہوں تب مانوں گا کہ میں اس لائن میں آگے جا سکتا ہوں یا نہیں۔

فاروق احمد صاحب نے بہت ہی دوستانہ انداز میں اور بہت ہی محبت سے استقبال کیا اور تقریباََ تین گھنٹے ان سے سیر حاصل گفتگو ہوئی،۔ اسی دوران میں نے انہیں اپنے دونوں ناولوں کا بتایا تو انہوں نے کہا کہ وہ مجھے بھیج دیجئے مگر برا مت مانئے گا اگر میں ریجیکٹ کر دوں تو۔ ان کا مطلب صاف تھا مگر میں نے انہیں فری ہینڈ دیا کہ جی بالکل ہر مصنف کو اپنا ناول قابل اشاعت ہی لگتا ہے مگر ناول کی اصل قدروقیمت تو پبلشر کو ہی پتہ ہوتی ہے تو آپ ایک بار پڑھ لیجئے گا پھر چاہے ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیجئے گا۔ اور پہلے آپ مشن پوائنٹ بلینک ہی پڑھئے گا۔ اس کے بعد میں کافی دن انتظار کرتا رہا مگر فاروق صاحب کا کوئی میسج نہ آیا۔مگر صبر کرنا تو میں پہلے ہی سیکھ چکا ہوں۔ بہرحال اس دوران کتاب دوست پر باقی کام چلتے رہے۔ نئے رائترزکی تلاش کا پروگرام بھی چلتا رہا اور میں نے چند ایک نئے رائٹرز کے ناول شائع بھی کر دیئے اس سے کتاب دوست ویب سائٹ کو ایک بوسٹ ملا اور رینکنگ بھی اوپر گئی اور سائٹ پر سبسکرائبرز اور وزیٹرز بھی ہزاروں میں چلے گئے۔ اب تک کتاب دوست ایک مقبول ترین ویب سائٹ کی شکل میں سامنے آچکی تھی۔

پانچ 05 مارچ 2021۔ فاروق احمد (اٹلانٹس پبلکیشنر) انٹرویو

اپنے پہلے انٹرویو میں اور دوسرا انٹرویو  فاروق احمد صاحب کا تھا، میں نے اشاعت سے پہلے بھرپور سوشل میڈیا کیمپیئن چلائی اور ہزاروں قارئین کی توجہ اس انٹرویو پر مرکوز ہوگئی۔ میں نے ہر بار باقاعدہ ایک مقررہ وقت کا اعلان کیا اور ہمیشہ وقت پر ہی ہر چیز شائع کی۔ تو فاروق احمد کے ساتھ انٹرویو قارئین نے بے تحاشہ داد و تحسین کے ساتھ پڑھا اور بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اور پھر کوئی سوا مہینے کے بعد فاروق بھائی کی ای میل آئی جس میں انہوں نے ردوان سیریز کو سراہا تھا اور اس کی جلد اشاعت کا کہا تھا۔ یہ خبر میرے لئے بے  حد خوشی کی خبر تھی کہ پہلا ہی ناول اٹلانٹس سے شائع ہونے جا رہا تھا جس سے جناب اشتیاق احمد کے ناول شائع ہوتے ہیں۔ اور پبلشر بھی انہی کے ہیں۔میں اشتیاق احمد کو اپنا روحانی استاد مانتا ہوں بالکل ایسے ہی جیسے وہ خود جناب ابن صفی مرحوم کو اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔

مشن پوائنٹ بلینک : اشاعت 25 مئی 2021  

اب تک کتاب دوست اردو ناولوں کی گوگل پر تمام ویب سائٹس کو پیچھے چھوڑتی ہوئی ٹاپ ٹین پوزیشنز تک پہنچ چکی تھی۔  کچھ اور نئے مسنفین کے ناول بھی کتاب دوست پر شائع ہو چکے تھے اور اب اس میدان میں میں کافی کچھ سیکھ چکا تھا۔ مشن پوائنٹ بلینک کی اشاعت سے بہت حوصلہ ملا اور اس دوران ایک اور ناول “وائلڈلینڈ سے فرار”کے کافی صفحات بھی لکھ چکا تھا تو اس پر دوبارہ کام شروع کر دیا۔ اب قارئین نے جو کہ مشن پوائنٹ بلینک پڑھ چکے تھے مجھ سے دوسرے ناول کا مطالبہ کر نے لگے اور پری آرڈر رقم بھی بھیجنے لگے تھے۔ کیونکہ میں دو اور ناول  “جواز ” اور “خاموش پکار”  پی ڈی ایف میں بھی آن لائن شائع کر چکا تھا اور قارئین کو میرے اندازِ تحریر سے اچھی واقفیت ہو چکی تھی۔ اس دوران بت سے بہترین  کتاب دوست قارئین میرے حلقہ احباب میں شامل ہو چکے تھے جو بس ناول کا نام اناؤنس کرتے ہیں پری آرڈر بھیج دیا کرتے ہیں اور ناول کا شدت سے انتطارکرتے ہیں۔

کتاب دوست کے نیو رائٹر سرچ پروگرام نے کتاب دوست کو لکھنے والوں سے متعارف کروایا اور بہت سے نئے اور پرانے لکھنے والوں نے بھی اپنی تحاریر کتاب دوست کو ارسال کیں جن میں سب سے پہلے لیہ پنجاب کے جناب محمد ندیم اختر جو کہ مدیر اعلٰی ہیں ماہنامہ “نوائے ادیب” ” انہوں نے ناول “مشن تھری ڈی کی تباہی ” ارسال کیا اس کے بعد دیگر نئے مصنفین بھی سامنے آئے اور کتاب دوست نے انہیں نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ پوری دنیا میں گوگل کے ذریعے ہر اس ملک میں متعارف کروایا جہاں اردو ناولوں کے شوقین موجود ہیں۔ ساتھ ہی نئے مصنفین نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کے ناولوں کو کتابی شکل میں بھی اگر شائع کیا جاسکے تو کیا جائے۔ مگر یہ کام بھاری اخراجات کی وجہ سے التوا میں ہے۔ ساتھ ہی اب تک میں اپنے پیشہ ورانہ کاموں کو بھی اتنا وقت نہ دے پار ہا تھا جتنا پہلے دیا کرتا تھا کیونکہ اردو ادب سے متعلقہ رابطے ، گفتگو، اور معاملات اچھا خاصہ وقت لینے لگے تھے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر میری فری لانسنگ اور اردو ادب کی پوسٹس مکس ہورہی تھیں جس سے میرے کاروباری معاملات متاثر ہو رہے تھے۔ مگر نئے مصنفین کی رائے کا بھی احترام تھا تو یہ سوچاکہ اب کتاب دوست کو بھی پبلشنگ کی لائن لایا جائے۔ 

وائلڈ لینڈ سے فرار (ردوان سیریز ناول 2) : اشاعت 25 اگست 2021  

ردوان سیریز کا دوسرا ناول “وائلڈ لینڈ سے فرار” کا قارئین نے جس شدت سے انتظار کیا اس نے مجھے بھی حیران کر دیا۔ پری آرڈر بھی ہو چکے تھے اور ناول کی سوشل میڈیا پر اچھی کیمپیئن چلائی تھی تو قارئین کو بے چینی سے انتظار تھا اور ساتھ ہی مجھے بھی تھا کہ دیکھیں اس ناول کا کیا رسپانس آتاہے۔ اور یہ سب نے دیکھا کہ پھر پہلے ناول سے بھی زیادہ وائلڈ لینڈ سے فرار کی دھوم مچی۔ مجھے بہت سارے قارئین نے برملا کہاکہ اس پر تو کوئی فلم بننی چاہئے۔ ناول کی کہانی ، مناظر، تحقیقی کام اورایکشن، ڈائیلاگز اور ناول میں خاص طور پر ردوان کے علاوہ اس کی بیوی عشال کے کردار کو قارئین نے بے حد سراہا اور اسے ایک خوشگوار سرپرائز کہا کیونکہ عام طور پر جو ناول لکھے جاتے ہیں اس میں بیوی کا کردار صرف گھر کے کچن یا گھریلو امور تک محدود تھا مگر ردوان سیریز میں عشال کا لیڈ رول ہے اور اس کردار کا اصل ایکشن وائلڈ لینڈ سے فرارمیں قارئین کے سامنے آیا۔ اس کے علاوہ ناول کا کلائمکس ایسا تھا کہ قارئین ناول کو ہاتھ سے رکھ ہی نہیں سکتے ۔ یقین نہ ہو تو پڑھ کر دیکھ لیجئے۔ 

Wild Land Se Farar

اگست 2021: مشہورومعروف پبلشرز کی ڈیلر شپ

اب اس سے ایک قدم آگے کی سوچ پر کام شروع ہوا اور وہ یہ کہ کتاب کو کتاب دوست قاری تک پہنچایا جائےاور اس کام کیلئے سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری تھا کہ پبلشر کس طرح اور کن عوامل کے تحت کتاب شائع کرتے ہیں اور کس طرح کتاب ایک قاری کے ہاتھوں میں پہنچتی ہے ۔ تو اس مشن کو پورا کرنے کیلئے سب سے پہلے اٹلانٹس پبلکیشنز کے فاروق احمد صاحب سے اس حوالے سے بات کی اور ان سے ادارے کی کتابوں کی آن لائن فروخت کیلئے بطور ڈیلر اجازت طلب کی جو انہوں نے بخوشی دیدی۔ یوں کتاب دوست پہلے اٹلانٹس پبلکیششنز اور پھر دارالمصحف اور بچوں کا کتاب گھر اور اسے ساتھ ہی شیخ غلام علی اینڈ سنز کے بھی تصدیق شدہ ڈیلر کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ الحمدللہ یہ کتاب دوست کے لئے بہت بڑی کامیابی تھی۔ 

 

ستمبر 2021 : بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ناولوں کی ترسیل کا آغاز

اس دوران فیس بک گروپس اور کتاب دوست کے پیج پر کتاب دوست کے کاموں پر اعتماد کرتے ہوئے کئی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی رابطہ کیا اور ناول منگوانے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اپنے گزشتہ تجربات بھی شیئر کیئے کہ کس طرح ناول منگوانے میں انہیں نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور اب کتاب دوست پر بھروسہ کرتے ہوئے وہ کتب منگوا رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ ہمیں ظاہر ہے اس کا تجربہ نہ تھا مگر جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرلیں تو پھر پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس ضمن میں معلومات حاصل کی گئیں اور سسٹم کو سمجھا گیا کہ کس طرح پاکستان سے باہر بنا کسی پریشانی کے کتب ارسال کی جائیں کہ قاری تک پہنچ سکیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا آرڈر اشتیاق احمد کے ایک قاری کا ہم نے وصول کیا اور کامیابی سے اس کی ڈیلیوری ان کے گھر تک پہنچ گئی تو گویا اس کے بعد کتاب دوست ایک انٹرنیشنل اسٹور بن کر سامنے آیا ہے اور لوگ اب بیرون ملک سے بلا جھجک اپنے آرڈرز نوٹ کروا رہے ہیں۔ الحمدللہ۔

 

دنیائے جاسوسی ادب کے عظیم مصنف اور 800 سے زائد ناولوں کے مصنف اشتیاق احمد مرحوم کو خراج تحسین  

رِدوان سیریز کے دوسرے ناول “وائلڈ لینڈ سے فرار ” کی ڈیلیوری لینے گیا تو فاروق احمد صاحب نے “شعاعوں کا ہنگامہ ” کو پرنٹنگ میں بھیجنے کا عندیہ دیا۔ یہ وہ ناول ہےجو مشن پوائنٹ بلینک کے ساتھ میں نے انہیں دیا تھا۔ یہ ناول  اشتیاق احمد مرحوم کو خراجِ تحسین کے طور پر “اردو ادب میں غالباََ پہلی بار “خراج تحسین نمبر” کے طور پر  ستمبر کے اواخر میں اعلان کیا گیا۔ اور پھر اس میں دیگر اور قارئین کو بھی دعوت دی گئی کے وہ بھی اپنے خراجِ تحسین کے جملے لکھ کر اس ناول میں شائع کروا سکتے ہیں گویا یہ ایک ریکارڈ ناول بن  گیا کیونکہ  اس سے پہلے صرف اشتیاق احمد نے ابن صفی مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے “عمران کی واپسی ” لکھا تھا جس میں فاروق احمد صاحب نے معاونت کی تھی۔

سترہ 17 نومبر 2021 : شعاعوں کا ہنگامہ خراجِ تحسین نمبر 

حماد آفاق شاہانہ اور انسپکٹر جرار 

اشتیاق احمد مرحوم کو کسی بھی مداح یا قاری کی طرف سے یہ پہلا باقاعدہ ناول کی شکل میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ جس کی کہانی ، کردار ، مکالمے اور کیس کا سہرا غرض کے بہت سی باتیں بالکل اشتیاق احمد کے انداز کی لگیں اور قارئین نے دل کھول کر داد دی اور اس کو سیریز بنا کر مزید ناول لکھنے کا مطالبہ داغ دیا ہے۔ جس پر ابھی میں کوئی فیصلہ نہیں کر پایا ہوں کیونکہ ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بہرحال  آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔   اس ناول میں کرداروں کے نام تبدیل کر کے ملتے جلتے نام لکھے گئے ہیں حالانکہ قارئین نے اس پر یہ سوال بھی کیا کہ یہ تو ایک خراج تحسین ہے تو کرداروں کے نام کیو ں تبدیل کئے گئے۔ مگر اس کا جواب کئی بار دیا جا چکا ہے امید ہے آپ کی نظر سے بھی گزرا ہوگا۔ 

اسکے علاوہ بھی میں سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے اپنے قارئین سے مسلسل رابطے میں رہا اور روز ہی کوئی نہ کوئی پوسٹ کرتا رہا اور اب ایک بہت بڑا حلقہ ادیبوں کا بھی مجھے پہنچان چکا تھا تو یہ بات بھی میرے حوصلے کیلئے ایندھن کا کام کرنے لگی۔ کئی معروف ادیبوں سے رابطہ ہوا اور یہ اعزاز بھی حصے میں آیا کہ ابھی حال ہی میں چودھویں اردو کانفرنس میں نوشاد عال اور محبوب صاحب نے آنے کی دعوت دی اور نوشاد عادل نے بطور خاص رابطہ رکھا۔ وہیں فاروق احمد صاحب بھی موجود تھے اور محبوب الٰہی مخمور سے بھی شرف ملاقات ملا۔  

Shuaon Ka Hangama

نومبر 2021: پرانی کتب کی خریدو فروخت کا ناخوشگوار تجربہ

 کتاب دوست نے جونہی اپنی ڈیلر شپ کا اعلان کیا قارئین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے آرڈرز بک کروانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور یوں کتاب دوست نے یہ تجربہ بھی کیا کہ کس طرح کتب قارئین تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ساتھ ساتھ اس مسئلے سے جڑے بہت سے مسائل کی بھی نشاندہی ہوئی۔اس کام میں کتاب دوست ویب سائٹ کو جہاں ڈیلر شپ کمیشن کی وجہ سے کچھ سہاراملا وہیں کچھ معاملات میں نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ گو کہ اپنے گزشتہ کاروباری تجربے کی روشنی میں نقصان سے بچنے میں کافی حد تک کامیاب رہے مگر پھر بھی پرانی کتب کی خریدو فروخت کرتے ہوئے ہمارے اپنے ہی لوگ ہمارے ساتھ ہاتھ کرگئے۔ پرانی کتب کی ڈیلنگ کیونکہ پبلشرز سے ہٹ کر عام لوگوں سے کی جاتی ہے جن کے پاس سیکنڈ ہینڈ کتب ہوتی ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کی ڈیلنگ کی کوئی گارنٹی بھی نہیں ہوتی کہ ساکھ اور نام ان کے لئے کوئی اہمیت رکھتا ہو جیسا کہ نامور پبلشرز ہوتےہیں۔ پرانی کتب کی ڈیلنگ میں آرڈرز کنفرم کرنے کے بعد حیلے بہانے اور بعد میں مکر جانے جیسے واقعات کئی بار سامنے آئے اور ہر بار حیرت میں مبتلا کر گئےکہ ہمارے لوگ کس ڈھٹائی سے وعدہ خلافی کرتے ہیں اور پھر اس پر ڈٹ جاتےہیں کہ ہم غلط بھی نہہیں ہیں۔ ہزاروں روپے کے نقصان کے بعد بہر حال یہ ناگوار فیصلہ کرنا پڑا کہ اب پرانی کتب کی ڈیلنگ کتاب دوست نے بند کردی ہے صرف پبلشرز کے نئے ناول ہی پبلشرز سے لے کر قارئین تک پہنچائے جائیں گے۔ 

اردو کانفرنس کا ایک گھنٹہ 

جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ قدرت اس جانب کھینچ لائی ہے تو اسی ضمن میں مزید سوچا تو اردو کانفرنس کا وہ ایک گھنٹہ جس میں بچوں کے ادب کے بارے میں موجودہ حالات اور اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور پھر وہاں موجود شخصیات سے اس حوالے سے جب بات ہوئی تو یہ خیال زور پکڑ گیا کہ ابھی تو جو کچھ بھی کیا وہ سمجھیں کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کتاب دوست کو اس سے آگے بڑھ کر اردو ادب کے حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ اب جب اس لائن میں اپنا حصہ ڈال ہی رہے ہیں تو پھر کچھ ایسا کیا جائے کہ بچوں کے ادب کو فروغ حاصل ہو اور اس حوالے سے منصوبوں کا آغاز کیا جائے۔ تو جناب اب آپ پڑھئے کتاب دوست کے نئے سال کے منصوبے میں ذیل میں پیش کر رہا ہوں ۔ اس میں کچھ منصوبے ایسے ہیں جن میں جیب سے خرچ کرنا پڑتا ہے مگر میں اپنی کاروباری مصروفیات سے وقت دوں گا وہ بھی انوسٹمنٹ ہوگی لیکن بہرحال پورا سال جیب سے خرچ کرتا آیا ہوں

مثال کے طور پر ویب سائٹ کے اخراجات  ۔ ویب سائٹ ڈومین نیم ، ویب ہوسٹنگ کے اخراجات جو ہر سال ادا کرنے ہوتے ہیں۔ویب سائٹ کی گرافک ڈیزائن کمپوزنگ اور دیگرنئے  مصنفین کے ناولوں کی کمپوزنگ، ایڈیٹنگ و سرورق ڈیزائننگ جو نئے مصنفین  کو مفت فراہم کی گئی۔ اب جو منصوبے 2022 کے لئے بنائے گئے ہیں اس میں قارئین سے درخواست ہے کہ کتاب دوست کے ساتھ مندرجہ ذیل چیزوں میں تعاون کر سکتے ہیں تو ضرور کیجئے کیونکہ اس سے ہمیں آگے بڑھ کر نئی نسل کے بچوں اور بڑوں کے لئے قابل ذکر خدمات انجام دینے کا موقع ملے گا۔ اس ضمن میں یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ سب جو اب تک آپ نے پڑھا ہے۔ یہ میرا کوئی فل ٹائم پیشہ نہیں ہے ۔ میں فری لانسر ہوں اور اپنی ایجنسی کے ذریعے انٹرنیشنل کسٹمرز اور کلائنٹس کو ویب سروسز فراہم کرتا ہوں اس لئےاردو ادب کے منصوبے صرف میرا شوق اور قارئین کی محبت و خلوص کی وجہ سے کر پایا ہوں ورنہ میں کیا اور میری بساط کیا۔ صرف اتنا اطمینان ہے کہ کل کوئی یہ طعنہ نہ دے کے اچھا جناب دنیا بھر کے لوگوں کو فری لانسنگ سکھاتے رہے اور ملک کے لئے کچھ کرنے کا وقت آیا تو آئیں بائیں شائیں کر کے نکل گئے۔

تو جناب اب یہ تو آپ ہی بتائیں گے کہ میں نے آئیں بائیں شائیں کی یا باتوں سے آگے بڑھ کر عملی کام کیا جو عوام نے سراہا ؟ کم ازکم اتنا تو گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ کوشش تو کی ۔ کچھ لوگوں نے طنز بھی کیا ہے، کچھ نے ہونہہ کہہ کر حقیقت سے نظریں چرانے کی کوشش بھی کی ہے۔کچھ نے پروپیگنڈے بھی کئے ہیں اور دو مرتبہ میرا فیس بک اکاؤنٹ بند کروایا گیا ہے۔ کچھ لوگ کسی کی بھی کامیابیوں کو ہضم نہیں کرپاتے ہیں ۔ ان کے لئے میرا “شعاعوں کا ہنگامہ” کا ڈائلاگ ہے کہ “لو نہ لو سن تو لو” ۔ پسند آئے تو اچھی بات ہے نہ آئےاور برا لگے تو دو روٹی زیادہ کھائیے۔  کامیابی یا ناکامی اللہ کے ہاتھ ہے۔ عزت و ذلت بھی اسی کے ہاتھ ہے۔

 

 کتاب دوست 2021 مختصر سالانہ جائزہ

سال 2021 کتاب دوست کے لئے شاندار سال ثابت ہوا ۔یکم اکتوبر 2020 کو منظر عام پر آنے والی اس ویب سائٹ نے سال کے اواخر میں اشتیاق احمد مرحوم کے ناولوں کے حوالے سے ان کےقارئین کی توجہ حاصل کرلی تھی۔ 

اس کے بعد  2021 کی شروعات میں ہی انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا گیا اور مشہور شخصیات کے انٹرویوز شائع کئے گئے۔  

اس سال بہت تیزی سے کتاب دوست ویب سائٹ نے صف اول کی ویب سائٹ لسٹ میں اپنی جگہ بنائی اور پورا سال گوگل سرچ میں پہلے صفحے پر موجود رہی اور گوگل کی پرفارمنس ٹرافی حاصل کرتی رہی۔

اس کے علاوہ کتاب دوست ڈوٹ کوم پر منفرد مواد کی وجہ سے قارئین کی اولین ترجیح رہی جو کہ دلچسپی سے بھرپور ناولوں ، انٹرویوز ، واقعات، کالم، خبروں، ویڈیوز، بائیوگرافی اور آسانی سے ڈاﺅن لوڈ ہونے والے ناولوں کی شکل میں قارئین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

 کتاب دوست کا ”نیو رائٹر سرچ پروگرام“ اس کی پہچان بنا اور بہت سے نئے مصنفین نے اپنی تحریریں بھیجیں جن میں سے بہترین تحریریں شائع بھی کی گئیں۔

اسی دوران کتاب دوست کے بانی شہزاد بشیر نے بھی ناول نگاری کا آغاز کیا اور ناول سیریز  ( ردوان سیریز  / ڈی ایس پی طاہر سیریز ) شروع کیں جو بہت مقبول ہو رہی ہیں۔

اس کے علاوہ عظیم مصنف جناب اشتیاق احمد مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ایک ناول ”شعاعوں کا ہنگامہ“لکھا جو بہت پسند کیا جا رہاہے۔

مزید یہ کہ کتاب دوست نے اس سال اپنے ایک تجرباتی آن لائن بک اسٹور سے کتب کی فروخت کا آغاز کیا اور اس میں بھی کامیابی حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ ایک آن لائن اسٹور قائم کیا جا رہا ہے کتب فروش ڈوٹ کوم کے نام سے ۔

انسپکٹر جمشید ویب سیریزڈوٹ کوم بھی اشتیاق احمد کے ناولوں کی ٹاپ ویب سائٹ بن گئی۔یہ ویب سائٹ بھی گوگل پر پہلے صفحے پر موجود ہے اور انسپکٹرجمشید سیریز کے ناولوں کی ویب سائٹ ہے۔

اس کے علا وہ کتاب دوست نے ملک کے مشہور ومعروف بک پبلشرز کی ڈیلر شپ حاصل کر کے قارئین تک کتابوں کی ترسیل کو مزید آسان بنا دیا ہے اور اس

سال مزید پبلشرز کو بھی شامل کرنے کا پروگرام ہے۔

 

کتاب دوست کو اردو ادب کے فروغ میں اسپانسرز اور ایڈورٹائزرز کا تعاون درکار ہے۔ 

 کتاب دوست کے ساتھ تعاون کیلئے آپ ویب سائٹ پر اشتہارات بک کر سکتے ہیں اور اپنی کتاب، ناول، ڈائجسٹ، رسالے یا کتب خانے، پبلشنگ ہاؤس وغیرہ  یا اس سے متعلق کاروبار کی تشہیر کروا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہر ناول کالم انٹرویو نظم شاعری طنزو مزاح اور دیگر نئے مضامین کی پوسٹس پر بطور اسپانسر سپورٹ کر سکتےہیں ۔ تفصیلات کیلئے رابطہ کیجئے۔

info@kitabdost.com فون/واٹس ایپ 03072395447 یا ای میل کیجئے 

 

اب آجائیے سال 2022 کیلئے کتاب دوست کے آئندہ منصوبے

مجھے اسی پوسٹ میں سال 2022 کے اردو ادب سے متعلق منصوبوں کی تفصیلات لکھنی تھیں مگر کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر بھی اور اس پوسٹ کے طویل ہونے کی وجہ سے بھی اب وہ منصوبے ایک اور نئی پوسٹ میں شیئر کروں گا قارئین کے ساتھ ۔ تب تک کچھ اور اہم امور بھی شامل ہو  جائیں گے اس منصوبوں کی تفصیلات میں۔ امید ہے اب تک کی پورے سال کی مختصر رپورٹ آپ کو پسند آئی ہوگی۔ اور آپ کا تعاون مجھے حاصل رہے گا۔ شکریہ

Shahzad Bashir
بانی و ویب ماسٹر (www.kitabdost.com)

 


اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولز Nimra Ahmed Novels  عمیرہ احمد کے ناولز Umera Ahmed Novels  اشتیاق احمد کے ناولز Ishtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریز Imran Series دیوتا سیریز Devta Series انسپکٹر جمشید سیریز Inspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولز شہزاد بشیر کے ناولز Shahzad Bashir Novels نسیم حجازی کے ناولز Naseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟  We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff !   Donate | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon

Shahzad Bashir

شہزاد بشیر (مصنف / ناشر / بلاگر) مکتبہ کتاب دوست کے بانی ہیں۔ کتاب دوست ڈوٹ کوم اور دیگر کئی ویب سائٹس کے ویب ماسٹر ہیں۔ آئی ٹی کی فیلڈ میں گزشتہ بارہ سال سے لکھتے آرہے ہیں۔ بطور مصنف 15 اردو ناول شائع ہو چکے ہیں۔ مزید تفصیلات ان کی ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave the field below empty!

Next Post

4 Urdu Horror Novels on KitabDost Free Download

Mon Dec 27 , 2021
Urdu Horror Novels Free Download on Kitab Dost. The most fearful horror Urdu novels by new writers published by KitabDost.com 4 Urdu Horror Novels Free Download 4 best urdu horror novels written by new writers and published on Kitab Dost Website. The most fearful Urdu novels available for free download […]

ایسی مزید دلچسپ تحریریں پڑھئے

Chief Editor

Shahzad Bashir

Shahzad Bashir is a Pakistani Entrepreneur / Author / Blogger / Publisher since 2011.