
تبصرہ ناول : آٹوگراف کاقتل
مصنف: شہزاد بشیر
“آٹو گراف کا قتل ” ڈی ایس پی طاہر سیریز کا تیسرا ناول ہے جسے معروف مصنف شہزاد بشیر صاحب نے تحریر کیا ہے۔ حواس پر گرفت کرنے والا یہ ناول جرائم اور تفتیش کے سنسنی خیز سفر کی کہانی ہے جس نے اس سلسلے کو انتہا ئی منفرد اور دلکش بنا دیا ہے۔
ناول کا ٹائٹل بہت خوبصورت اور جاذب نظر ہے جو کہانی کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔ اس ناول نے بہت انتظار کروایا تو اپنے اوپر قابو رکھے بغیر، کوئی وقت ضائع کیے بغیر اور جوش و خروش کے ساتھ میں اس کے صفحات میں کھو گیا ۔ پہلا صفحہ ہی پوری طرح سے آ پکو اپنی گرفت میں لے لیتا ہےاور ابتدا سے ہی مجھے کہانی کے سسپنس نے اپنے اندر غرق کر دیا۔ شہزاد بشیر صاحب کا تحریری انداز واقعی متاثر کن ہے، کرداروں کے دلچسپ جملوں نے ناول میں ایک متاثر کن ماحول پیدا کیا ہے ۔ اس ناول کے نمایاں پہلوؤں میں سے ایک شہزاد بشیر صاحب کی کردار تخلیق کرنے کی اعلی صلاحیت ہے جو صفحہ پر زندہ محسوس ہو تے ہیں۔
ڈی ایس پی طاہر ایک زبردست اور مضبوط مرکزی کردار ہےجو اپنے عزم اور تیز تفتیشی مہارت کے ساتھ قاری کو شروع سے آخر تک باندھ کر رکھتا ہے۔ معاون کردار بھی اپنی اپنی منفرد خصوصیات کے ساتھ بہترین ہیں۔ناول کا پلاٹ نہایت پیچیدہ مگر دلچسپ ہےاور غیر متوقع واقعات سے بھرا ہوا ہے جن کا آخر تک اندازہ لگایا جانا ناممکن ہے۔ شہزاد بشیر صاحب کی کہانی کو آگے بڑھانےکی مہارت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب وہ جرم اور سسپنس کے پیچیدہ جال میں قاری کو پھنسا دیتے ہیں اور قاری بیچارہ پہلو بدلتا ہوا صفحات سے نظر بھی نہیں ہٹا پاتا۔جرم، تفتیش، اور خطرے کی موجود گی کا احساس اس ناول کو اس صنف کے شائقین کے لیے پڑھنا ضروری بناتا ہے۔
شہزاد بشیر صاحب نے ایک بار پھر “آٹوگراف کا قتل” جیسے مکمل ناول کے ساتھ کرائم فکشن کی صنف میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ اپنے دلکش کرداروں، تیز رفتار بیانیہ اور سسپنس بھرے پلاٹ کے ساتھ، یہ ناول شروع سے آخر تک ایک معمہ ہے۔ میں کتاب دوست کے ہر ایک قاری کو یہ ناول پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔پہلی فرصت میں ضرور پڑھیں۔
“آٹوگراف کا قتل “کے مرکزی کردار ڈی ایس پی طاہر اور اس کا دوست ڈاکٹر فرازہیں۔ ناول دونوں کے درمیان ایک جاندار بحث کے ساتھ شروع ہوتا ہے، جو ان کی دوستی کے گہرے بندھن کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ جو چیز اس ناول کو ایک الگ مقام کی طرف لے جاتی ہے وہ ہے مصنف کا جانوروں کے لئے ہمدردی کا احساس ،جو کہ پڑھنے کے بعد قارئین پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔مجھے ذاتی طور پر مصنف کا یہ انداز بہت اچھا لگا ۔ مصنف شہزاد بشیر صاحب کا گہرا مشاہدہ اور جانوروں کے درد کی دلی تصویر کشی واقعی قابل تعریف ہے۔
ناول کی کہانی جرم کی سازش کے گرد گھومتی ہے، مصنف نے مہارت سے ایسے مکالمے شامل کیے ہیں جو معاشرے کے موجودہ ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے دور میں ڈی ایس پی طاہر جیسے فرض شناس افسروں کی بہت ضرورت ہے، جو دیانتداری اور انصاف کے پیکر ہوں۔
“آٹوگراف کا قتل” ایک بظاہر سادہ بنیادی کہانی کے ساتھ شروع ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے کہانی کھلتی ہے تو پلاٹ اور انکشافات قارئین کو متوجہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں خلاصہ یہ کہ ناول آٹوگراف کا قتل بڑی مہارت کے ساتھ دوستی اور پولیس کے حالات کو ایک ساتھ بیان کرتا ہےاور یہی چیز اس ناول کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔
جناب شہزاد بشیر صاحب کے لئے ڈھیروں مبارک باد ۔ اللہ تعالی ان کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے اور ان کا ادارہ مکتبہ کتاب دوست ایسے ہی ترقی کی منزلیں طے کرتا جائے ۔آمین ثم آمین۔
عرفان مرتضیٰ (مصنف،تبصرہ نگار،کالم نگار)
اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز - ڈاؤن لوڈ کیجئے
ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟ We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff ! | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household Items | Buy from Amazon |


