ِ رائٹر اکاؤنٹ بنائیے
  ِاپنی تحریر پوسٹ کیجئے
  مفت ناول ڈاؤن لوڈ کیجئے
ِ آن لائن شاپ / کتاب آرڈر کیجئے  
       
       
  قسط وار ناول پڑھئے
  بچوں کی کہانیاں پڑھئے
  بلاگ بنانا سیکھئے
ِدیگر اہم اصناف  
       

قارئین کی پسندیدہ کیٹگریز

              

مٹی کا قرض

مٹی کا قرض 

افشین نسیم 

 

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
‏وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے،،

 

مٹی کا قرضملٹری انٹیلیجنس کے آفس کے احاطے میں اس نے اپنی نئے ماڈل کی سیاہ کرولا پارک کی تھی ۔ یہ گاڑی اس کے باپ پاک بحریہ کے سربراہ جنرل میر وہاج حسن نے اس کے کراچی میں ڈی جی بحریہ کی پوسٹ پر ترقی کرنے پر اس کو تحفے میں دی تھی ۔ وہ اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا ۔ دو بہنیں شادی شدہ کویت اور امریکہ میں رہتی تھی ۔ تین بھائی بھی شادی شدہ تھے جن میں سے ایک میر عارف حسن اسلام آباد میں رہائش پذیر تھا اور دوسرا میر آیان حسن حیدرآباد میں جبکہ تیسرا بھائی میر وہاب حسن اس کے ریٹائرڈ باپ اور ماں کے ساتھ ہی لاہور میں رہتا تھا اس کی بھی حال ہی میں نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ میرفرجاد حسن اپنے سب بہن بھائیوں میں سب سے خوبصورت تھا ۔ لیکن نہ جانے کیوں اتنا ہی شادی کے خلاف تھا ۔ وہ کراچی میں رہتا تھا تنہا ہی اس لیے بھی کسی کا اس پر بس نہیں چلتا تھا ۔ اس کی والدہ عروج بیگم نازک اور خوبصورت خدوخال کی مالک بڑی بڑی خوابناک آنکھوں والی کالج میں اردو لٹریچر کی پروفیسر تھیں اور وہاج حسن ریٹائر جرنل بحریہ تھے ، وہ انتہائی گورے رنگ اور بے حد خوبصورت آنکھوں کے مالک تھے اور فرجاد دونوں کے درمیان سے چن کر خوبصورتی لے کر پیدا ہوا تھا ۔ اس کی آنکھوں کا رنگ عجیب و غریب قسم کا تھا ہر کوئی دیکھ کر چند لمحے کے لیے محصور ہو جاتا تھا ۔ سرخی مائل سرمئی رنگ کی آنکھیں اور بھورے بال پلکیں بھی بھوری ہی تھیں بڑی بڑی آنکھیں اور ماں کی طرح نازک نازک سے خدوخال جن میں زنانہ پن نہیں بلکہ سختی تھی ۔ چھ فٹ کے قد کے ساتھ وہ خواتین تو خواتین مردوں کو بھی رک کر قدرت کی صناعی دیکھنے پر مجبور کر دیا کرتا تھا اور اس ردعمل کا وہ بچپن سے ہی عادی تھا ۔ ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر میں وہ اپنے ایک دوست شہروز حسین کے بلاوے پر آیا تھا ۔ لیکن اس سے پہلے ہی شہروز کے بڑے بھائی زبیر سے ملاقات ہو گئی تھی جو اس کے آفیسر جن کی وہ بہت زیادہ عزت کرتا تھا ۔ جرنل فہام سے اس کو شادی کے لیے راضی کرنے کی درخواست کرنے کے لیے آیا تھا فرجاد کو وہاں دیکھ کر اس کو بھی پکڑ کر کونے میں لے گیا تھا ۔
” دیکھو فرجاد الشبہ بہت اچھی لڑکی ہے ، ماں اور بابا کو بہت پسند ہے اور یہ شہروز کسی بھی طرح شادی کے لیے راضی نہیں ہو رہا ہے کہتا ہے کہ ملک کی خدمت کروں گا ، شادی نہیں کرسکتا ہوں شادی مجھے رشوت خور اور کاہل انسان بنا دے گی “ زبیر نے ناراضگی سے شہروز کے بیان کا زکر کیا تھا جبکہ یہ پٹی تو اپنے تمام قریبی دوستوں کو میر فرجاد حسن خود ہی پڑھایا کرتے تھے ۔
” اوہو اچھا! یہ بات ہے بھائی میں اس کو راضی کر کے ساتھ ہی لے کر آتا ہوں ، آج کل چھٹی پر ہوں ساتھ ہی رہوں گا کہ کہیں یہ رشتہ توڑنے کی کوشش نہ کرے “ فرجاد نے تشویش سے کہا تھا ۔ اور زبیر خوش ہو گیا تھا کیونکہ فرجاد سے اس کو امید تھی کہ وہ شہروز کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔
” ہاں فرجاد تم اس کو ساتھ ہی لے کر آجاؤ پندرہ دن ہیں تقریبات شروع ہونے میں ” وہ فرجاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہوئے بولے تھے ۔ اور پھر شادی کے دس بارہ کارڈ پکڑا کر چلے گئے تھے ۔ فرجاد اندر آگیا تھا شہروز ابھی تک چیف کے کمرے میں موجود تھا وہ اس کے کیبن میں آگیا تھا اس کے ساتھ آفس میں ایک مزید آفیسر دونوں کا مشترکہ دوست فرید بھی بیٹھتا تھا وہ دونوں ہی شہروز کی شادی کے بارے میں گفتگو کرتے رہے تھے ، کچھ دیر بعد وہ آگیا تھا ۔ شہروز گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا قبائلی پٹھان تھا سبز رنگ کی آنکھوں والا جوان تھا ، وہ صرف دو بھائی تھے اور ان کے باپ کی کافی زمینیں تھیں ان کے آبائی علاقے میں وہ اچھے خاصے متمول گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔
” یار شہروز تم نے چھٹی کی درخواست دے دی ہے “ اس کے آفس میں داخل ہوتے ہی فرجاد نے پوچھا تھا
” میں نے نہیں دی تھی ، لیکن بھائی صاحب کی وجہ سے جرنل نے خود ہی ایک ماہ کی چھٹی دے دی ہے “ شہروز دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا اپنی فیملی میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے زرا زرا سی بات پر رونے کی عادت بچپن سے ہی موجود تھی اس میں لیکن اس بار اس کے ماں باپ اور بھائی پر کسی بھی بات کا اثر نہیں ہو رہا تھا ۔
” وجہ کیا ہے بھئی شادی نہ کرنے کی ؟ “ فرید نے اطمینان سے کہا تھا وہ بھی اکیلا رہتا تھا اور اس پر بھی فیملی کا کوئی دباؤ نہیں تھا وہ میر فرجاد حسن کا ہمنوا تھا ہر معاملے میں اس لیے شہروز کو چڑا رہا تھا ۔
” میں اس لیے اس لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہر حال میں مجھ سے زیادہ ہے “ وہ کہتے ہوئے بے بسی کی تصویر بن گیا تھا
” کیا مطلب ہے “ وہ دونوں اشتیاق سے آگے جھک کر پوچھ رہے تھے ۔
” وہ ایک مشہور مصور ہے الشبہ عباسی ، ماسٹرز ان کیمسٹری ہے اور وہ امریکہ کا گرین کارڈ بھی رکھتی ہے مجھ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا اس نے کہ وہ ہر گز بھی پاکستان میں نہیں رہے گی صرف اپنے ماں باپ کے کہنے پر شادی کرنے کے لیے یہاں آئی ہے ابھی وزٹ ویزا پر مجھے لے جائے گی بعد میں گرین کارڈ دلا دے گی “ وہ افسردگی سے بولا تھا ۔
” اوہ اچھا یہ بات تمھارے گھر والوں کے علم میں ہے کیا ؟ میرا خیال تھا کہ وہ تمھیں باہر نہیں بھیجیں گے ؟ “ فرجاد نے پوچھا تھا وہ الشبہ عباسی کا زکر سن کر ہی چونک گیا تھا ۔
” ان لوگوں کو اس کے ماں باپ نے کہا ہے کہ وہ انہیں بھی امریکہ لے جا کر ان کو کاروبار سیٹ کرا دیں گے ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے ملک ڈیفالٹ کرنے والا ہے یہاں رہ کر انہیں کیا ملے گا “ شہروز نے افسردگی سے کہا تھا
” تو اس طرح سے تو پورے خاندان کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا “ فرجاد نے کہا
” فجی یہ صرف دھوکہ ہے ، میں اچھی طرح سے جانتا ہوں وہ صرف مجھ کو ساتھ لے جانے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں ، اس کے علاؤہ کوئی دوسرا ان کو رشتہ دینے پر تیار نہیں تھا بلکہ وہ لڑکی بھی کوئی اتنی خوبصورت نہیں ہے بس نارمل انسان ہے “ وہ فرجاد کو مدد طلب نظروں سے دیکھ کر بولا تھا فرجاد نے ایک تصویر موبائل فون میں نکال کر دیکھائی تھی ۔
” شہروز کہیں یہ تو حسین عباسی نہیں ہے ؟ “
” ہاں ! یہی ہے الشبہ عباسی کا باپ ، تم کیسے جانتے ہو ؟ “ وہ دونوں چونک گئے تھے اور فرجاد شیطانی انداز میں مسکرا رہا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” شہروز الشبہ کو کچھ گھر کے کپڑے خریدنے ہیں وہ تمھارے ساتھ جانا چاہتی ہے تو یہ لو چابی اور اس کو شاپنگ کرادو “ زبیر نے ایک دن قبل ہی فرجاد اور فرید کے ساتھ واپس آنے والے شہروز کو گاڑی کی چابی دے کر کہا تھا ۔
” چلو شہروز میں بھی ساتھ چلتا ہوں “ فرجاد نے فرید کو نظروں سے کچھ اشارہ کرتے ہوئے اٹھ کر کہا تھا فرید اس وقت ہی کہیں چلا گیا تھا شہروز نے کپڑے تک تبدیل نہیں کیے تھے جبکہ فرجاد نے لباس تبدیل کرنے کے ساتھ کوبرا کی پوری بوتل ختم کر دی تھی باہر نکل کر فرجاد نے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی اور اس شاپنگ مال میں پہنچ گیا تھا جہاں پر الشبہ عباسی اپنے ڈرائیور کے ساتھ شہروز کا انتظار کر رہی تھی ۔
” او ہیلو شہروز کیسے ہو “ وہ لہک کے آگے بڑھی تھی
” ہائے ! ٹھیک ہوں “ وہ بیزاری سے بولا تھا
” السلام علیکم بھابھی “ فرجاد نے دلکش مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہا تھا
” وعلیکم السلام ” وہ ہاتھ آگے بڑھا کر بولی تھی اس نے تھام لیا تھا اور وہ محصور ہو گئی تھی ۔ فرجاد عادی تھا اس رویے کا اس کی بھوری پلکوں کے نیچے سرمئی آنکھوں کو دیکھ کر مرد بھی غور سے دیکھتے تھے وہ تو پھر عورت تھی ۔
” چلو کیا لینا ہے ، اتنی گرمی ہے یہاں “ شہروز نے سخت ترین بیزاری سے کہا تھا
” گرمی تو ہمیشہ ہی ہوتی ہے اور شاپنگ میں کر چکی ہوں کچھ معمول کا سامان لینا تھا اور تمھارے ساتھ وقت گزارنے کے لیے “ وہ اس کی بیزاری دیکھ کر ضبط کر کے بولی تھی
” ارے بھابھی ناراض مت ہوں ، ہم لوگ دراصل کل ہی کراچی سے آئے ہیں وہاں پر موسم مختلف تھا اور شہروز کو فوراً ہی یہاں کا موسم سوٹ نہیں ہوتا ہے “ فرجاد نے آسٹریلین بجریگر Budgerigar طوطے کی طرح سے اس کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اور پھر وہ شہروز کی اس کو بیزار کرنے کی تمام کوششوں کو اسی طرح سے ناکام کرتا رہا تھا ۔ دوسری طرف فرید الدین اس طرف چلا گیا تھا جہاں پر مونازائٹ دھات کی کانوں کی دریافت ہوئی تھی ۔ وہاں پر فوج کا سخت ترین پہرہ تھا ۔ ملٹری انٹیلیجنس کی ہی دریافت تھی یہ دھات اس لیے فرید الدین کو جانے کی اجازت مل گئی تھی ۔ ادھر ادھر گھوم پھر کر اس نے کافی معلومات فراہم کر لیں تھیں ۔ شہروز اپنے کمرے کے باہر برآمدے میں بیٹھا ہوا تھا اور فرجاد اس کے ساتھ تھا جب ہی شہروز کا فون بجا تھا اور اس نے انتہائی درجے کی بیزاری سے آواز بند کر کے فون رکھ دیا تھا ۔ فرجاد نے آگے بڑھ کر دیکھا تھا اور دوبارہ رنگ ہوتے ہی فون فرجاد نے اٹھا لیا تھا ۔
” ہیلو بھابھی جی میں فرجاد ہوں ، شہروز نہا رہا ہے “ اس کے سامنے ہی جھوٹ بول رہا تھا اور وہ خون کے گھونٹ پی کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا ۔ فرجاد الشبہ عباسی سے گفتگو میں مصروف تھا اور فرید الدین ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر گیا ہوا تھا ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” دیکھیں جناب میری بیٹی کی زندگی کا سوال ہے اور وہ فرجاد سے شادی کرنا چاہتی ہے اس لیے آپ اس کے ماں باپ سے ہماری گفتگو کرا دیں اور اپنے یہاں انکار سمجھیں ہماری طرف سے ،“ حسین عباسی نے شہروز کے والد زین حسین سے کہا تھا
” یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں جناب ، ہمارے مہمان آنے والے ہیں شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے “ وہ صدمے سے گنگ رہ گئے تھے اور شہروز بھنگڑا ڈالنے کی تیاری کر رہا تھا
” ارے انکل ! آنے والے تھے آئے تو نہیں ہیں منع کر دیں پلیز میں فرجاد سے ہی شادی کروں گی میری زندگی کا سوال ہے “ الشبہ عباسی جو جینز اور ٹاپ میں ملبوس تھی انتہائی اطمینان سے چیونگم چباتے ہوئے بولی تھی وہ پہلے ہی اس کے پہناوے کی وجہ سے اس سے نظریں چرا کر بیٹھے ہوئے تھے کہاں اس کا اطمینان سے شادی سے انکار ، اور یوں کسی دوسرے سے شادی کی بات وہ شہروز کے ساتھ خود سے بھی شرمندہ ہو گئے تھے ۔
” مگر بھابھی جی مجھ سے شادی کیوں کریں گی آپ ؟ میں تو ملٹری انٹیلیجنس سے تعلق نہیں رکھتا ہوں اور نہ ہی میری توسط سے آپ مونازائٹ دھات کی کانوں سے بڑی مقدار حاصل کر کے میرے جسم میں ہی چھپا کر ملک سے باہر لے کر جاسکتی ہیں ؟ “ فرجاد نے کیک پیس کھاتے ہوئے اطمینان سے دھماکہ کیا تھا ۔
” یہ کیا بکواس ہے ، کونسی دھات “ حسین عباسی نے کانپتے ہوئے بات بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت ہی فرید کئی فوجیوں کے ساتھ مہمان خانے میں داخل ہوا تھا ۔
” انکل آپ کی بیگم بہت کمزور اعصاب کی مالک ہیں اور وہ یہ بیان بھی دے چکیں ہیں کہ تین سال قبل آپ نے بالا کوٹ کی ایک فیملی کو اسی طرح بھابھی جی کے ساتھ مل کر بیوقوف بنایا تھا اور وہاں سے ہمارے ملک میں پایا جانے والا ٹائٹینیم ایک نوجوان سرفراز کے جسم میں بھر کر باہر لیجانے کا جھانسہ دے کر لے گئے تھے اب کی بار آپ نے سوچا تھا کہ مونازائٹ میں کیونکہ ایٹم کے زرات بھی موجود ہوتے ہیں اور ہائیڈروجن بھی تو اس لیے وہ جسم میں نہیں رکھی جاسکتی ہے اس لیے ایسے ہی شخص کو پھنسایا جائے جو قانونی طور پر اس دھات کو ساتھ رکھنے کا مزاج ہو ، کیونکہ پورے پاکستان کو معلوم ہے کہ اس کی دریافت ملٹری انٹیلیجنس نے ہی کی تھی اور آپریشن میں شہروز شامل تھا ، “ فرجاد نے انتہائی سکون سے اب چائے اٹھا لی تھی
” یہ سب جھوٹ ہے بکواس ہے ” وہ غرا کے کھڑا ہو گیا تھا
” نہیں بلکل سچ ہے آپ نے سرفراز کو مرنے کے لیے سڑک پر پھینک دیا تھا ۔ لیکن ایک پاکستانی نے اس کو اٹھا لیا تھا اور سفارت خانے پہنچا دیا تھا وہاں سے ہمیں بھی اس کیس کی اطلاع ملی تھی اور آپ کی اے آئی کے زریعے بنائی گئی تصاویر بھی ۔ اس بے چارے سے تو سب کچھ چھین لیا تھا آپ نے جب تک امریکہ میں آپ لوگوں کو ٹریس کیا گیا تھا آپ واشنگٹن میں تھے اور پھر دوبارہ پاکستان آگئے تھے ، شکر ہے کہ ہم نے ملک کے خزانے چوری کرنے اور اقوام عالم کے سامنے پیش کر کے ہمیں گدھ کی طرح نوچنے کا موقع دینے والے مجرموں کو گرفتار کر لیا ہے یہیں سے “ فرید نے ان دونوں باپ بیٹی کو ہتھکڑیاں لگا دیں تھیں ۔ اور وہاں سے نکل گیا تھا
” فرجاد بیٹے میں کس طرح سے تمھارا شکریہ ادا کروں “ زین حسین صاحب نے فرجاد کو گلے لگا کر پوچھا تھا ۔
” شہروز کی شادی جب تک ملتوی کر کے جب تک میں نہ کہوں “ فرجاد نے جھٹ سے راستہ بتا دیا تھا اور وہ دونوں بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے ۔

ختم شد ☀️

افشین نسیم

کراچی پاکستان

 

 


اس ویب سائٹ پر سب سے زیادہ پسند کئے جانے والے ناولز -   ڈاؤن لوڈ کیجئے

نمرہ احمد کے ناولز Nimra Ahmed Novels  عمیرہ احمد کے ناولز Umera Ahmed Novels  اشتیاق احمد کے ناولز Ishtiaq Ahmed Novels 
عمران سیریز Imran Series دیوتا سیریز Devta Series انسپکٹر جمشید سیریز Inspector Jamshed Series 
دیگر مصنفین کے ناولز شہزاد بشیر کے ناولز Shahzad Bashir Novels نسیم حجازی کے ناولز Naseem Hijazi Novels


ہمیں امید ہے کہ آپ اس ویب سائٹ سے اپنے مطالعاتی ذوق کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ اس ویب سائٹ کے ساتھ تعاون کرنا پسند فرمائیں گے؟  We hope you will enjoy downloading and reading Kitab Dost Magazine. You can support this website to grow and provide more stuff !   | Contribute | Advertisement | Buy Books |
Buy Gift Items | Buy Household ItemsBuy from Amazon

Afsheen-naseem

افشین نسیم کراچی پاکستان سے ، 2020 سے ،،صائم ایاز ، سیریز کی کہانیاں تحریر کی ہیں ، نئے افق ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے ،

One thought on “مٹی کا قرض

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Leave the field below empty!

Next Post

بے وقوف چاچا - سبق آموز کہانی

Sat Sep 23 , 2023
بےوقوف چاچا سبق آموز کہانی نورین خان    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کے وسط میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں اسلم نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ اسلم اپنی شرارتی فطرت اور دوسروں کا مذاق اڑانے کے شوق کے لیے جانا جاتا تھا۔ لیکن گاؤں میں ایک […]
بے وقوف چاچا

ایسی مزید دلچسپ تحریریں پڑھئے

Chief Editor

Shahzad Bashir

Shahzad Bashir is a Pakistani Entrepreneur / Author / Blogger / Publisher since 2011.